حیرت
89 Misre
- ہنگامہ گرم حیرت بود و نمود تھا
- خوشا مستی کہ جوش حیرت انداز قاتل سے
- مری ہستی فضاے حیرت آباد تمنا ہے
- بہ فکر حیرت رم آئنہ پرواز زانو ہے
- فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں
- حیرت آئینۂ انجام جنوں ہوں جوں شمع
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- حیرت فکر سخن ساز سلامت ہے اسدؔ
- حیرت انداز رہبر ہے عناں گیر اے اسدؔ
- حیرت آغوش خوباں ساغر بلور ہے
- سبزہ جوں انگشت حیرت دردہان گور ہے
- بس کہ شرم عارض رنگیں سے حیرت جلوہ ہے
- بس کہ حیرت سے زپا افتادۂ زنہار ہے
- حیرت اپنے نالۂ بیدرد سے غفلت بنی
- بازگشت جادہ پیماے رہ حیرت کہاں
- وحشی خو کردۂ نظارہ ہے حیرت جسے
- آئینہ داغ حیرت و حیرت شکنج یاس
- میں ہمہ حیرت جنوں بے تاب دوران خمار
- حیرت حجاب جلوہ و وحشت غبار چشم
- نفس حیرت پرست طرز ناگیرائی مژگاں
- عید در حیرت سوار چشم قربانی عبث
- بہار حیرت نظارہ سخت جانی ہے
- نگاہ حیرت مشاطہ خوں فشاں تجھ سے
- حیرت حسن چمن پیرا سے تیرے رنگ گل
- خیال سادگی ہاے تصور نقش حیرت ہے
- زبس ہر شمع یاں آئینۂ حیرت پرستی ہے
- بتان شوخ کی تمکین بعد از قتل کی حیرت
- بیخودی فرماں رواے حیرت آباد جنوں
- حیرت آئینہ ہے جیب تامل ہنوز
- حسرت فرصت جہاں دیتی ہے حیرت کو رواج
- نگہ حیرت سواد خواب بے تعبیر بہتر ہے
- ہنر پیدا کیا ہے میں نے حیرت آزمائی میں
- کرے گر حیرت نظارہ طوفاں نکتہ گوئی کا
- اسدؔ تاثیر صافی ہاے حیرت جلوہ پرور ہو
- حیرت سے ترے جلوے کی از بس کہ ہیں بے کار
- ہے تماشا حیرت آباد تغافل ہاے شوق
- حیرت اگر خرام ہے کار نگہ تمام ہے
- فرصت یک چشم حیرت شش جہت آغوش ہے
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- نہ حیرت چشم ساقی کی نہ صحبت دور ساغر کی
- رقیب آئنہ ہے حیرت تماشائی
- زخود گزشتن دل کاروان حیرت ہے
- پر طاؤس ہے نیرنگ داغ حیرت انشائی
- حیرت ہمہ اسرار پہ مجبور خموشی
- اے اسدؔ رویا جو دشت غم میں میں حیرت زدہ
- وحشت نہ کھینچ قاتل حیرت نفس ہے بسمل
- حیرت حد اقلیم تمناے پری ہے
- سحر گہ باغ میں وہ حیرت گلزار ہو پیدا
- بحکم عجز ابروے مہ نو حیرت ایما ہے
- دید حیرت کش و خرشید چراغان خیال
- حیرت کاغذ آتش زدہ ہے جلوۂ عمر
- حیرت متاع عالم نقصان و سود تھا
- ضبط سوز دل ہے وجہ حیرت اظہار حال
- دگر نہ منزل حیرت سے کیا واقف ہیں مدہوشاں
- حیرت شہید جنبش ابروئے یار ہے
- حیرت ہجوم لذت غلطانیٔ تپش
- حیرت نگاہ برق تماشا بہار شوخ
- خانہ ویراں سازی حیرت تماشا کیجیے
- بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے
- حیرت آئنہ انجام جنوں ہوں جیوں شمع
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- حیرت فکر سخن ساز سلامت ہے اسدؔ
- رنجش حیرت سرشتاں سینہ صافی پیشکش
- اہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخی ناز
- ہنگامہ گرم حیرت بود و نبود تھا
- حیرت متاع عالم نقصان و سود تھا
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- ز بسکہ جلوۂ صییاد حیرت آرا ہے
- نہ ہوئی ہم سے رقم حیرت خط رخ یار
- ز خود رفتگی ہائے حیرت سلامت
- ادب نے سونپی ہمیں سرمہ سائی حیرت
- صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر
- آئنہ دار بن گئی حیرت نقش پا کہ یوں
- قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
- بہ حکم عجز ابروئے مہ نو حیرت ایما ہے
- حسرت فرصت جہاں دیتی ہے حیرت کو رواج
- خوابیدہ بہ حیرت کدۂ داغ ہیں آہیں
- حیرت کش یک جلوۂ معنی ہیں نگاہیں
- مری ہستی فضائے حیرت آباد تمنا ہے
- حیرت طپیدن ہا خوں بہائے دیدن ہا
- حیرت فروش صد نگرانی ہے اضطرار
- ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
- سر کرے ہے دل حیرت زدہ شغل تسکیں
- حیرت آفت زدۂ عرض دو عالم نیرنگ
- اس کی شوخی سے بہ حیرت کدہ نقش خیال
- اگر آئینہ بنے حیرت صورت گرچیں
- جاے حیرت ہے کہ گلبازی اندیشۂ شوق
- جس کے حیرت کدۂ نقش قدم میں مانی
- شعلہ آغاز ولے حیرت داغ انجام