حوصلۂ
8 Misre
بقدر حوصلۂ عشق جلوہ ریزی ہے
غنچے میں دل تنگ ہے حوصلۂ گل ہنوز
ہے تنگ زواماندہ شدن حوصلۂ پا
فرصت تپش و حوصلۂ نشوونما ہیچ
بہ قدر حوصلۂ عشق جلوہ ریزی ہے
فکر کو حوصلۂ فرصت ادراک نہیں
ہے ترے حوصلۂ فضل پر از بس کہ یقیں
کہ ہوا ساغر بے حوصلۂ دل سرشار
ح
All Letters