حقیقت
12 Misre
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- دل غافل از حقیقت ہمہ ذوق قصہ خوانی
- ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
- قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
- اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے
- کہیں حقیقت جاں کاہیٔ مرض لکھیے
- نسیہ و نقد دو عالم کی حقیقت معلوم
- نہ پوچھ اس کی حقیقت حضور والا نے
- دل غافل از حقیقت ہمہ ذوق قصہ خوانی
- کہہ سکے ساری حقیقت ہم نہ اس کے رو برو