حق
31 Misre
- بھولا ہوں حق صحبت اہل کنشت کو
- کو بوقت قتل حق آشنائی اے نگاہ
- درد اسم حق سے دیدار صنم حاصل ہوا
- گریباں چاک کا حق ہوگیا ہے میری گردن پر
- مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے
- کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیں
- گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
- حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
- حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
- وسعت رحمت حق دیکھ کہ بخشا جاوے
- دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگی
- قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
- ہرچند اس کے پاس دل حق شناس ہے
- تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
- بہ نیم غمزہ ادا کر حق ودیعت ناز
- رہا مانند خون بے گنہ حق آشنائی کا
- بھولا ہوں حق صحبت اہل کنشت کو
- مشغول حق ہوں بندگی بو تراب میں
- ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
- پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق
- دونوں کے دل حق آشنا دونوں رسول پر فدا
- حق سے کیا مانگیے ان کے لیے جب ہو موجود
- سخن حق ہمہ پیمانۂ ذوق تحسیں
- نظارگی صنعت حق اہل بصارت
- حق گوے و حق پرست و حق اندیش و حق شناس
- حق کے تفضلات سے ہو مرجع انام
- آیت رحمت حق بسملۂ مصحف ناز
- حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے
- بس کہ تیرے حق میں کہتی ہے زباں
- یہی ہے مذہب حق والسلام والاکرام
- ملے دو مرشدوں کو قدرت حق سے ہیں دو طالب