حضور
14 Misre
- شور حشر اس فتنہ قامت کے حضور
- حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے
- حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
- مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بقول حضور
- غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
- تماشا سرخوش غفلت ہے با وصف حضور دل
- بٹتے ہیں سونے روپے کے چھلے حضور میں
- در حضور پر اے ابر بار بار برس
- نہ پوچھ اس کی حقیقت حضور والا نے
- ادھر نہ ہوگی توجہ حضور کی جب تک
- جو واں نہ کہہ سکا وہ لکھا ہے حضور کو
- چاہیں اگر حضور تو مشکل نہیں یہ کام
- پیش گاہ حضور شوکت و جاہ
- ذوق تسلیم تمنا سے بہ گلزار حضور