حسن
85 Misre
- حسن خوباں بسکہ بے قدر تماشا ہے اسدؔ
- اگر گل حسن و الفت کی بہم جوشیدنی جانے
- فسون حسن سے ہے شوخی گلگونہ آرائی
- کرے ہے حسن خوباں پردے میں مشاطگی اپنی
- برق سامان نظر ہے جلوۂ بے باک حسن
- حسن و رعنائی میں وہم صد سر و گردن ہے فرق
- ہے کسوت عروج تغافل کمال حسن
- ہنوز حسن کو ہے سعی جلوہ اندوزی
- زبس جز حسن منت ناگوارا ہے طبیعت پر
- ہوں زپا افتادۂ انداز یاد حسن سبز
- لطافت ہاے جوش حسن کا سر شیر ہے پیدا
- عشق کو ہر رنگ شان حسن ہے مد نظر
- حیرت حسن چمن پیرا سے تیرے رنگ گل
- عمر میری ہو گئی صرف بہار حسن یار
- منع مت کر حسن کی ہم کو پرستش سے کہ ہے
- طاؤس خاک حسن نظر باز ہے مجھے
- ہوا جب حسن کم خط بر عذار سادہ آتا ہے
- فروغ حسن سے ہوتی ہے حل مشکل عاشق
- حسن خود آرا کو ہے مشق تغافل ہنوز
- صفا و شوخی و انداز حسن پا بہ رکاب
- جوش دل ہے مجھ سے حسن فطرت بیدل نہ پوچھ
- سیر ملک حسن کر میخانہ ہا نذر خمار
- کمال حسن اگر موقوف انداز تغافل ہو
- کرے ہے حسن ویراں کار روے سادہ رویاں پر
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- اے حسن مگر حسرت پیماں شکنی ہے
- بوسۂ پا انتخاب بدگمانی ہاے حسن
- حسن کو غنچوں سے ہے پوشیدہ چشمی ہاے ناز
- حسن میں حور سے بڑھ کر نہیں ہونے کے کبھی
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- کریں خوباں جو سیر حسن اسدؔ یک پردہ نازک تر
- نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
- حسن آشفتگی جلوہ ہے عرض اعجاز
- فروغ حسن سے روشن ہے خوابگاہ تمام
- ہوا نشان سواد دیار حسن عیاں
- نہیں شاہان حسن کا دستور
- شوخی حسن و عشق ہے آئنہ دار ہمدگر
- اے بہ سراب حسن خلق تشنۂ سعی امتحاں
- رکھتا ہے انتظار تماشاے حسن دوست
- وقت خیال جلوۂ حسن بتاں اسدؔ
- وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ
- شوخ نے وقت حسن طرازی تمکیں سے آرام کیا
- حسن آئینہ و آئینہ چمن مشرب تھا
- وقت حسن افروزی زینت طرازاں جائے گل
- میکش مضموں کو حسن ربط خط کیا چاہیے
- ہے خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیال
- حسن افسردہ دلی ہا رنگیں
- حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسدؔ
- وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ
- حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے
- حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
- حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
- ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی
- حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرم
- نظارہ کیا حریف ہو اس برق حسن کا
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- ہے وہ غرور حسن سے بیگانۂ وفا
- پوچھ مت رسوائی انداز استغنائے حسن
- جوہر ایجاد خط سبز ہے خود بینیٔ حسن
- گو سمجھتا نہیں پر حسن تلافی دیکھو
- مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاب
- وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
- سیر ملک حسن کر مے خانہ ہا نذر خمار
- نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں
- فروغ حسن سے ہوتی ہے حل مشکل عاشق
- نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
- زکات حسن دے اے جلوۂ بینش کہ مہر آسا
- حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
- عیسیٰ طلسم حسن تغافل ہے زینہار
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- ہنوز محرمی حسن کو ترستا ہوں
- ہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا
- پرواز ہا نیاز تماشائے حسن دوست
- سطوت سے تیرے جلوۂ حسن غیور کی
- اپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے
- ہے ترے حسن دل افروز کا زیور سہرا
- ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
- وصل زنگار رخ آئنۂ حسن یقیں
- معنی لفظ کرم بسملۂ نسخۂ حسن
- دے دعا کو مری وہ مرتبۂ حسن قبول
- ہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسن صبر کی داد
- علی کے بعد حسن اور حسن کے بعد حسین
- حسن کا خط پر نہاں خندیدنی انداز ہے
- تمثال جلوہ عرض کر اے حسن کب تلک
- جس کے حسن روز افزوں کی یہ اک ادنی ہے بات