حسرت
106 Misre
- حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
- ازاں جا کہ حسرت کش یار ہیں ہم
- بہ بزم مے پرستی حسرت تکلیف بے جا ہے
- نگہ معمار حسرت ہا چہ آبادی چہ ویرانی
- اسدؔ حسرت کش یک داغ مشک انددوہ ہے یا رب
- بہ امید نگاہ خاص ہوں محمل کش حسرت
- براے حل مشکل ہوں زپا افتادۂ حسرت
- حسرت آباد جہاں میں ہے الم غم آفریں
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہئے
- یک داغ حسرت نفس نا کشیدہ کھینچ
- ہوں خموشی چمن حسرت دیدار اسدؔ
- بہ حسرت گاہ ناز کشتۂ جاں بخشی خوباں
- پردۂ بادام ایک غربال حسرت بیز ہے
- ہوئی شام جوانی اے دل حسرت نصیب آخر
- وادی حسرت میں پھر آشفتہ جولانی عبث
- جنون حسرت یک جامہ دار رکھتے ہیں
- حسرت دست گہ و پاے تحمل تا چند
- عرض حسرت پس زانوے تامل تا چند
- کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول
- قہرمان عشق میں حسرت سے لیتے ہیں خراج
- حسرت فرصت جہاں دیتی ہے حیرت کو رواج
- عیش بازی کدۂ حسرت جاوید رسا
- حسرت نشہ وحشت نہ بہ سعی دل ہے
- صدف دندان گوہر سے بہ حسرت اپنے لب کاٹے
- اے حسن مگر حسرت پیماں شکنی ہے
- حسرت عرض تمنا میں ہوں رنجور ہنوز
- بہار نیم رنگ آہ حسرت ناک باقی ہے
- گرہ ہے حسرت آبے بروے کار آورن
- رہا پامال حسرت ہاے فرش بزم گستردن
- لالہ چشم حسرت آلود چراغ کشتہ ہے
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- ہنوز محمل حسرت بدوش خود رائی
- نے حسرت تسلی نے ذوق بے قراری
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے
- غیر از شکستہ حالی و حسرت کشیدگی
- حسرت زدۂ طرب ہے یہ شخص
- خونابۂ ہلاہل حسرت چشیدہ ہوں
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- کیا یکسر گداز دل نیاز جوشش حسرت
- بہ تمنا کدۂ حسرت ذوق دیدار
- حسرت کدۂ عشق کی ہے آب و ہوا گرم
- دیوانگی اسدؔ کی حسرت کش طرب ہے
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- ورنہ کیا حسرت کش دامن پہ نقش پا نہیں
- ہر بیاباں یک بیاباں حسرت تعمیر ہے
- اے حسرت بسیار تمنا کی کمی ہے
- حسرت نے لا رکھا تری بزم خیال میں
- ہے چشم تر میں حسرت دیدار سے نہاں
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- حسرت میں رہے ایک بت عربدہ جو کی
- بہ قدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھی
- اسد کو حسرت عرض نیاز تھی دم قتل
- دل کو نیاز حسرت دیدار کر چکے
- حسرت اے ذوق خرابی کہ وہ طاقت نہ رہی
- لالہ چشم حسرت آلود چراغ کشتہ ہے
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- غم اس کو حسرت پروانہ کا ہے اے شعلے
- جگر خائی جوش حسرت سلامت
- سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
- ہوئی شام جوانی اے دل حسرت نصیب آخر
- عیش بازی کدۂ حسرت جاوید رسا
- حسرت نشۂ وحشت نہ بہ سعیٔ دل ہے
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- کس قدر یارب ہلاک حسرت پا بوس تھا
- دل خوں شدۂ کشمکش حسرت دیدار
- ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
- دل حسرت زدہ تھا مائدۂ لذت درد
- جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئے
- حاصل سوائے حسرت حاصل نہیں رہا
- ہوں قطرہ زن بہ وادیٔ حسرت شبانہ روز
- گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے
- برائے حل مشکل ہوں ز پا افتادۂ حسرت
- قہرمان عشق میں حسرت سے لیتے ہیں خراج
- حسرت فرصت جہاں دیتی ہے حیرت کو رواج
- حسرت لذت آزار رہی جاتی ہے
- کیا یک سر گداز دل نیاز جوشش حسرت
- بہ بزم مے پرستی حسرت تکلیف بیجا ہے
- نگہ معمار حسرت ہا چہ آبادی چہ ویرانی
- سواے حسرت تعمیر گھر میں خاک نہیں
- دے داد اے فلک دل حسرت پرست کی
- تری طرف ہے بہ حسرت نظارۂ نرگس
- ناز کھینچوں بجائے حسرت ناز
- خار خار الم حسرت دیدار تو ہے
- ہوں خموشیٔ چمن حسرت دیدار اسدؔ
- کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا
- کہ حسرت کش رہا عرض ستم ہائے جدائی کا
- عذر واماندگی اے حسرت دل
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- پردۂ بادام یک غربال حسرت بیز ہے
- آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد
- کس کو سناؤں حسرت اظہار کا گلہ
- نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہے
- وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول
- ناچار بیکسی کی بھی حسرت اٹھائیے
- حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
- طبع ہے مشتاق لذت ہاۓ حسرت کیا کروں
- حسرت جلوۂ ساقی ہے کہ ہر پارۂ ابر
- دشمن حسرت عاشق ہے رگ ابر سیاہ
- مستی ابر سے گلچین طرب ہے حسرت
- پاے رفتار کم و حسرت جولاں بسیار
- بیتابی رشک و حسرت دید سہی
- نکلی آدھی حسرت تقریر آدھی رہ گئی