حساب
15 Misre
- کس کو دوں یارب حساب سوزناکی ہائے دل
- برانگشت حساب اشک ناخن نعل واژوں ہے
- ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
- کروں گا اشک ہاے وا چکیدہ سے حساب اس کا
- ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب
- چہ حساب جانفشانی چہ غرور دلستانی
- اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
- تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے
- شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
- حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
- مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
- یا رب حساب سختیٔ خواب گراں نہ پوچھ
- زر قیمت کا ہو گا اور حساب
- چہ حساب جانفشانی چہ غرور دلستانی
- ابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہ