حریف
17 Misre
- حریف جوشش دریا نہیں خودداری ساحل
- جوش سودا کب حریف منت دستار ہے
- طاقت حریف سختی خواب گراں نہیں
- حریف عرض سوز دل نہیں ہے
- مہ حریف نازش ہم چشمی ساغر نہیں
- حریف راز محبت مگر در و دیوار
- حریف مطلب مشکل نہیں فسون نیاز
- حریف وحشت ناز نسیم عشق جب آؤں
- کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق
- یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا
- ناتوانی سے حریف دم عیسی نہ ہوا
- نظارہ کیا حریف ہو اس برق حسن کا
- حریف جوشش دریا نہیں خودداری ساحل
- طاقت حریف سختیٔ خواب گراں نہیں
- مہ حریف نازش ہم چشمیٔ ساغر نہیں
- خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو
- رزم گہ میں حریف شیر کمیں