حال
43 Misre
- زبان ہر سر مو حال دل پر سیدنی جانے
- عجب نہیں پئے تحریر حال گریۂ چشم
- حسب حال اپنے پھر اشعار کہوں یا نہ کہوں
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- شکست حال انداز آفرین کج کلاہی ہے
- نہ پوچھ حال شب و روز ہجر کا غالبؔ
- بہر عرض حال شبنم سے رقم ایجاد گل
- مصرع سرد چمن ہے حسب حال عندلیب
- موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
- بادشاہی کا جہاں یہ حال ہو غالبؔ تو پھر
- تقریر کا اس کی حال مت پوچھ
- شب فراق میں یہ حال ہے اذیت کا
- آئنۂ نشان حال مثل گل چراغ ہے
- ضبط سوز دل ہے وجہ حیرت اظہار حال
- یہ تیرگی حال لباس سفری ہے
- بوسۂ لب سے ملی طبع کو کیفیت حال
- موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
- مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے
- کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
- نامۂ شوق بہ حال دل بسمل باندھا
- مجھے انتعاش غم نے پئے عرض حال بخشی
- وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
- ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا
- سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش حال
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- معلوم ہوا حال شہیدان گزشتہ
- اے بہ ضبط حال نا افسردگاں جوش جنوں
- گزری نہ بہ ہر حال یہ مدت خوش و نا خوش
- وائے محرومی تسلیم و بدا حال وفا
- دل میں طاقت جگر میں حال کہاں
- آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
- حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
- کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
- سر پھوڑنا وہ غالبؔ شوریدہ حال کا
- گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
- باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
- گر وہ مست ناز دیوے گا صلائے عرض حال
- ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر
- خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو
- مجھے انتعاش غم نے پے عرض حال بخشی
- ہے سوز جگر کا بھی اسی طور کا حال
- ایام جوانی رہے ساغر کش حال
- میں نے جمنا کا کچھ نہ لکھا حال