جی
32 Misre
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے
- یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بے زار ہے
- شیخ جی کعبے کا جانا معلوم
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
- بیچارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
- شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
- جی کس قدر افسردگی دل پہ جلا ہے
- پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
- جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
- جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
- دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا
- جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
- ڈھونڈے ہے اس مغنی آتش نفس کو جی
- شاد ہوں لیکن اپنے جی میں کہ ہوں
- کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ
- اور میں وہ ہوں کہ گر جی میں کبھی غور کروں
- جی میں اترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اک چیز
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ
- تاک کے جی میں کیوں رہے ارماں
- یہ بھی ناچار جی کا کھونا ہے
- بے چارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
- دو رنگیاں یہ زمانے کی جیتے جی ہیں سب
- زخم دل تم نے دکھایا ہے کہ جی جانے ہے
- ایسے ہنستے کو رلایا ہے کہ جی جانے ہے
- کیا کہیں کھائی ہے حافظ جی کی مار