جہاں
108 Misre
- عالم جہاں بعرض بساط وجود تھا
- میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غماز
- طلسم خاک کمیں گاہ یک جہاں سودا
- تکلف آئنہ دو جہاں مدارا ہے
- جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
- حسرت آباد جہاں میں ہے الم غم آفریں
- کی ہے وا اہل جہاں نے بہ گلستان جہاں
- باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں
- واں پر فشان دام نظر ہوں جہاں اسدؔ
- بر ہوس ہاے جہاں دامن فشانی مفت ہے
- یک جہاں گل تختۂ مشق شگفتن ہے اسدؔ
- رنجش دل یک جہاں ویراں کرے گی اے فلک
- جہاں جہاں مرے قاتل کا مجھ پہ احساں ہے
- دماغ دو جہاں پر سنبل و گل یک شبے خوں ہے
- خوں بہاے یک جہاں امید ہے تیرا خیال
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- حسرت فرصت جہاں دیتی ہے حیرت کو رواج
- جہان و اہل جہاں سے جہاں جہاں فریاد
- ہے ہر اک فرد جہاں میں ورق ناخواندہ
- یک جہاں زانو تامل در قفاے خندہ ہے
- دو جہاں وسعت بقدر یک فضاے خندہ ہے
- ہے دست رد بہ سیر جہاں بستن نظر
- دو جہاں گردش یک سبحۂ اسرار نیاز
- وہ جہاں مسند نشین بارگاہ ناز ہو
- بادشاہی کا جہاں یہ حال ہو غالبؔ تو پھر
- پیدا ہوئے ہیں ہم الم آباد جہاں میں
- مژہ فال دو جہاں خواب پریشاں زدہ ہے
- تجھے ہم مفت دیویں یک جہاں چین جبیں لیکن
- کمیں گاہ بلا ہے ہوگیا شیشہ جہاں خالی
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- دفتر مدح جہاں داور کھلا
- اس بیاباں میں گرفتار جنوں ہوں کہ جہاں
- دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- شب کہ دل زخمی عرض دو جہاں تیر آیا
- ہو جہاں وہ ساقی خرشید رو مجلس فروز
- تماشاے جہاں مفت نظر ہے
- جہاں شمع خموشی جلوہ گر ہے
- تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
- ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں
- اس قامت رعنا کی جہاں جلوہ گری ہے
- دکھلائے ہے مجھے دو جہاں لالہ زار داغ
- نظر بہ غفلت اہل جہاں ہوا ظاہر
- ہے جہاں فکر کشیدن ہاے نقش روے یار
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- طلسم خاک کمیں گاہ یک جہاں سودا
- تکلف آئنۂ دو جہاں مدارا ہے
- عالم جہاں بہ عرض بساط وجود تھا
- تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
- جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
- جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
- جہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
- لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
- ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
- دل ز کار جہاں اوفتادہ رکھتے ہیں
- یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں
- اے پرتو خورشید جہاں تاب ادھر بھی
- یک جہاں زانو تأمل در قفاۓ خندہ ہے
- دو جہاں وسعت بہ قدر یک فضاۓ خندہ ہے
- باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں
- دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- جہاں تلوار کو دیکھا جھکا دیتا تھا گردن کو
- جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
- حسرت فرصت جہاں دیتی ہے حیرت کو رواج
- شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
- سر کھجاتا ہے جہاں زخم سر اچھا ہو جائے
- ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں
- بلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے
- کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
- جہاں میں ہو غم شادی بہم ہمیں کیا کام
- ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع
- جہاں مٹ جائے سعیٔ دید خضر آباد آسائش
- ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
- آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
- کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
- جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا
- پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
- لوگوں کو ہے خورشید جہاں تاب کا دھوکا
- کچھ اور ہی نقشا نظر آتا ہے جہاں کا
- کیسا فلک اور مہر جہاں تاب کہاں کا
- اے جہاں دار آفتاب آثار
- کہ جہاں ہشت بہشت آ کے ہوئے ہیں باہم
- کہ جہاں چرنے کو آتے ہیں غزالان حرم
- جام جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر
- جہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے
- سامع زمزمۂ اہل جہاں ہوں لیکن
- بس کہ گستاخی ارباب جہاں سے ہوں ملول
- ہو وہ سرمایۂ ایجاد جہاں گرم خرام
- برش تیغ کا اس کی ہے جہاں میں چرچا
- کہ جہاں تک چلے اس سے قدم اور مجھ سے جبیں
- اے شاہ جہانگیر جہاں بخش جہاں دار
- تجھ کو شرف مہر جہاں تاب مبارک
- عزت جہاں گئی تو نہ ہستی رہی نہ نام
- وہ محض رحمت و رافت کہ بہر اہل جہاں
- جہاں ہو توسن حشمت کا اس کے جولاں گاہ
- یہ چاہتے ہیں جہاں آفریں سے شام و پگاہ
- کہ جہاں گدیہ گر کا نام نہیں
- یاں زمیں پر نظر جہاں تک جائے
- خانۂ تنگ ہجوم دو جہاں کیفیت
- سرنوشت دو جہاں ابر بیک سطر غبار
- دو جہاں طالب دیدار تھا یارب کہ ہنوز
- ہے نفس مایۂ شوق دو جہاں ریگ رواں
- یک جہاں بسمل انداز پر افشانی ہے
- روشناسوں کی جہاں فہرست ہے
- ہو جہاں گرم غزالخوانی نفس
- منظور ہے دو جہاں سے نو یعنی دل
- اے جہاں آفریں خداے کریم