جگر
100 Misre
- آئے ہیں پارہ ہائے جگر درمیان اشک
- میں اور صد ہزار نوائے جگر خراش
- ہر ایک داغ جگر آفتاب محشر ہو
- دل و جگر تف فرقت سے جل کے خاک ہوئے
- صفاے اشک میں داغ جگر جلوہ دکھاتے ہیں
- دیا داغ جگر کو آہ نے ساماں شگفتن کا
- کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
- ہے شفق سوز جگر کی آگ کی بالیدگی
- ہم نے سو زخم جگر پر بھی زباں پیدا نہ کی
- مے خانہ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- کشت سپند صد جگر اندوختن ہنوز
- ہے بے خمار نشۂ خون جگر اسدؔ
- جوں صدف پر در ہیں دنداں در جگر افشردگاں
- اگی ہے دود جگر سے شب سیہ روزی
- کہ بعد مرگ بھی ہے لذت جگر سوزی
- چراغان نگاہ و شوخی اشک جگر گوں ہے
- خوں ہوا دل تا جگر یارب زبان شکوہ لال
- مفت دل و جگر خلش غمزہ ہاے ناز
- جگر سے ٹوٹی ہوئی ہو گئی سناں پیدا
- جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا
- بس اے زخم جگر اب دیکھ لی شورش نمکداں کی
- خوں در جگر نہفتہ بہ زردی رسیدہ ہوں
- خندۂ گل بلب زخم جگر پنہاں ہے
- خون جگر ودیعت مژگان یار تھا
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- کشت سپند صد جگر اندوختن ہنوز
- قطرۂ خون جگر چشمک طوفاں زدہ ہے
- گلشن زخم کھلاتا ہے جگر میں پیکاں
- نذر مژہ کر دل و جگر کو
- خمیازہ طرب ساغر زخم جگر آوے
- آئینہ بہ عریانی زخم جگر آوے
- ناخن کو جگر کاوی میں بے رنگ نکالوں
- نمک زخم جگر بال فشانی مانگے
- شعلہ تا نبض جگر ریشہ دوانی مانگے
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- بخیۂ زخم جگر خندۂ زیر لب تھا
- ہو سکے ہے پردۂ جوشیدن خون جگر
- دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک
- خون جگر ودیعت مژگان یار تھا
- کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
- لذت ریش جگر غرق نمکداں ہونا
- جس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ ناز
- جاری تھی اسدؔ داغ جگر سے مری تحصیل
- چاک جگر سے جب رہ پرسش نہ وا ہوئی
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغ جگر ہدیہ
- جب لخت جگر دیدۂ خوں بار میں آوے
- دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو
- اب بے خبراں میرے لب زخم جگر پر
- رہے دل ہی میں تیر اچھا جگر کے پار ہو بہتر
- حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
- دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
- تکلیف پردہ داری زخم جگر گئی
- دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اب
- پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
- جگر کو مرے عشق خوں نابہ مشرب
- جگر خائی جوش حسرت سلامت
- داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہ
- اے نالہ نشان جگر سوختہ کیا ہے
- دل و جگر میں پر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہے
- میں اور صد ہزار نواۓ جگر خراش
- خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
- مے خانۂ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- کشت سپند صد جگر اندوختن ہنوز
- جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
- دل خونیں جگر بے صبر و فیض عشق مستغنی
- پایا سر ہر ذرہ جگر گوشۂ وحشت
- گر عرض تپاک جگر سوختہ چاہیں
- کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو
- سواے خون جگر سو جگر میں خاک نہیں
- جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا
- وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
- نیام پردۂ زخم جگر سے خنجر کھینچ
- شعلہ تا نبض جگر ریشہ داوانی مانگے
- نمک زخم جگر بال فشانی مانگے
- دل میں طاقت جگر میں حال کہاں
- دل جگر تشنۂ فریاد آیا
- نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا
- دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا
- پھر جگر کھودنے لگا ناخن
- پھر دیا پارۂ جگر نے سوال
- جس قدر جگر خوں ہو کوچہ دادن گل ہے
- کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
- کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ
- خون جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے
- ہے خون جگر جوش میں دل کھول کے روتا
- مژگاں تلک رسائی لخت جگر کہاں
- یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
- یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
- داغ طرف جگر عاشق شیدا کہیے
- کوہ کو بیم سے اس کے ہے جگر باختگی
- کہ رہیں خون جگر سے مری آنکھیں رنگیں
- ٹکڑے ہوا ہے دیکھ کے تحریر کو جگر
- ہر کف خاک جگر تشنۂ صد رنگ ظہور
- ہے سوز جگر کا بھی اسی طور کا حال
- رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے
- طوبی و سدرہ کا جگر گوشہ
- پوچھے ہے کیا معاش جگر تفتگان عشق