جوہر
77 Misre
- مژگاں کہوں کہ جوہر تیغ قضا کہوں
- نگہ شمشیر میں جوں جوہر آرامیدنی جانے
- حلقۂ گرداب جوہر کو بنا ڈالے تنور
- کجا جوہر چہ عکس خط بتاں وقت خود آرائی
- جوہر تیغ بسر چشمۂ دیگر معلوم
- خار شمع آئنہ آتش میں جوہر ہو گیا
- جوہر شمشیر کو ہے پیچ تاب آئینے پر
- بسان جوہر آئینہ از ویرانی دل ہا
- جوہر افسانہ ہے عرض تجمل ہنور
- کہ ہے تہ بندی پر ہاے طوطی رنگ جوہر کا
- بخیہ جوں جوہر تیغ آفت گیرائی ہے
- جراحت ہاے دل سے جوہر شمشیر ہے پیدا
- پیچ تاب جادہ ہے یاں جوہر تیغ عسس
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- عرض بہار جوہر پرواز ہے مجھے
- جوہر آئنہ فکر سخن ہوے دماغ
- نہ لبوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- جوہر آئینہ ساں مژگاں بدل آسودہ ہے
- ہیں خار راہ جوہر تیغ عسس تمام
- درون جوہر آئینہ جوں برگ حنا خوں ہے
- کہ جوہر آئنے کا ہر پلک ہے چشم حیراں کی
- میں بے ہنر کہ جوہر آئینہ تھا عبث
- آئینہ خانہ وادی جوہر غبار تھا
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آبدار تھا
- ہے عرض جوہر خط و خال ہزار عکس
- سمجھا ہوں زرہ جوہر شمشیر عسس کو
- بدام جوہر آئینہ ہو جاوے شکار اپنا
- سیہ مستی چشم شوخ سے ہیں جوہر مژگاں
- بچشم درشدہ مژگاں ہے جوہر رگ خواب
- ملی ہے جوہر آئینہ کو جوں بخیہ گیرائی
- یاں عرض سے رتبۂ جوہر کھلا
- عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم
- جوہر فکر پر افشانی نیرنگ خیال
- جوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا
- غفلت بہ بال جوہر شمشیر پرفشاں
- جوہر طلسم عقدۂ مشکل ہے آئنہ
- بدام جوہر آئینہ ہو جاوے شکار اپنا
- جوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا
- بخیہ جوں جوہر تیغ آفت گیرائی ہے
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آب دار تھا
- آئینہ خانہ وادیٔ جوہر غبار تھا
- جوہر تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلوم
- جانشین جوہر آئینہ ہے خار چمن
- جوہر آئینہ ہے یاں نقش احضار چمن
- جوہر آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا
- جوں پر طاؤس جوہر تختہ مشق رنگ ہے
- جوہر آئینہ ہے یاں گرد میدان نزاع
- جوہر آئنہ کو طوطی بسمل باندھا
- در خور عرض نہیں جوہر بیداد کو جا
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- عرض کیجے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
- جوہر آئینہ جز رمز سر مژگاں نہیں
- جوہر ایجاد خط سبز ہے خود بینیٔ حسن
- مژگاں کہوں کہ جوہر تیغ قضا کہوں
- عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم
- کیا بیتاب کاں میں جنبش جوہر نے آہن کو
- یہ مطلع اسدؔ جوہر افسون سخن ہو
- برنگ خار مرے آئنہ سے جوہر کھینچ
- جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا
- اگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی
- نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- پرافشاں جوہر آئینے میں مثل ذرہ روزن میں
- ہوئے ہیں بخیہ ہائے زخم جوہر تیغ دشمن میں
- ہوا ہے جوہر آئینہ خیل مور خرمن میں
- خار پا ہیں جوہر آئینۂ زانو مجھے
- آئینہ دیکھ جوہر برگ حنا نہ مانگ
- ہے زباں میری تیغ جوہر دار
- گرد جوہر میں ہے آئینۂ دل پردہ نشیں
- آستاں پر ہے ترے جوہر آئینۂ سنگ
- ریزۂ شیشۂ مے جوہر تیغ کہسار
- کہ ہوا صورت آئینہ میں جوہر بیدار
- خاک صحراے نجف جوہر سیر عرفا
- جوش جوہر سے دل آئنہ گلدستۂ خار
- جوہر دست دعا آئنہ یعنی تاثیر
- گر جوہر امتیاز ہوتا ہم میں
- فروغ جوہر ایماں حسین ابن علی
- کہ لوگ جوہر تیغ قضا کہیں اس کو