جوں
101 Misre
- جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
- جوں نخل ماتم ابر سے مطلب نہیں مجھے
- نگہ شمشیر میں جوں جوہر آرامیدنی جانے
- جوں چراغان دوالی صف بہ صف جلتا ہوں میں
- جوش جنوں سے جوں کسوت گل
- نگیں میں جوں شرار سنگ ناپید ہے نام اس کا
- حیرت آئینۂ انجام جنوں ہوں جوں شمع
- شاخ گل میں ہو نہاں جوں شانہ در شمشاد گل
- سبزہ جوں انگشت حیرت دردہان گور ہے
- بس کہ ہے میخانہ ویراں جوں بیابان خراب
- جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم
- چپکے چپکے جلتے ہیں جوں شمع خلوت خانہ ہم
- دوجہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- ننگ بالیدن ہیں جوں ہوئے سر دیوانہ ہم
- نہیں غیر از نگہ جوں نرگستاں فرش محفل ہا
- جوں شمع غوطہ داغ میں کھا گر وضو نہ ہو
- جوں بوے غنچہ یک نفس آرمیدہ کھینچ
- جوں صنوبر دل سراپا قامت آرائی نہیں
- جوں جادہ سر بہ کوے تمناے بیدلی
- دویدن کے کمیں جوں ریشۂ زیر زمیں پایا
- جوں صدف پر در ہیں دنداں در جگر افشردگاں
- بخیہ جوں جوہر تیغ آفت گیرائی ہے
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- بے دلوں سے ہے تپش جوں خواہش آب از سراب
- جوں داغ شعلہ سر خط آغاز ہے مجھے
- جوں زلف یار ہوں میں سراپا شکستہ دل
- ہوں جوں خط شکستہ بہر جا شکستہ دل
- غبار آلودہ ہیں جوں درد شمع کشتہ تقریریں
- جوں ماہی بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت
- بس رہتے ہیں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل
- جوں پر طاؤس یکسر داغ مشک اندودہ ہے
- درون جوہر آئینہ جوں برگ حنا خوں ہے
- کہ ہیں صد رخنہ جوں غربال دیواریں گلستاں کی
- خور قطرۂ شبنم میں ہے جوں شمع بہ فانوس
- جوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں
- جوں جادہ گر درہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- اشک جوں بیضۂ مژہ سے تہ پر پنہاں ہے
- جوں غنچہ و گل آفت فال نظر نہ پوچھ
- نمک ہے شمع میں جوں موم جادو خواب بستن کا
- جوں ذرہ صد آئینۂ بے زنگ نکالوں
- زخم ہاے کہنہ دل رکھتے ہیں جوں مردگی
- یک نگاہ گرم ہے جوں شمع سر تا پا گداز
- ملی ہے جوہر آئینہ کو جوں بخیہ گیرائی
- ذوق راحت اگر احرام تپش ہو جوں شمع
- شیرازۂ صد آبلہ جوں سبحہ بہم باندھ
- دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- ننگ بالیدن ہیں جوں موے سر دیوانہ ہم
- جوں نخل شمع ریشے میں نشو و نما گرو
- جوں اشک جب تلک نہ رکھوں دست و پا گرو
- جوں گوہر اشک کو ہے فرامش چکیدگی
- انساں نیاز مند ازل ہے کہ جوں کماں
- نغمہ و چنگ ہیں جوں تیر و کماں فہمیدن
- جوں بوے گل ہوں گرچہ گراں بار مشت زر
- کیجیے جوں اشک اور قطرہ زنی
- جوں شمع دل بخلوت جانا نہ کھینچیے
- جوں قمری بسمل تپش آہنگ نکالوں
- داغ ہے مہر دہن جوں چشم قربانی مجھے
- وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل
- خوشا عجزے کہ عاشق جل بجھے جوں شعلۂ خامش
- دیتا ہے اور جوں گل و شبنم بہار داغ
- جوں چشم باز ماندہ ہے ہر یک بسوے دل
- جوں اعتماد نامہ و خط کا ہو مہر سے
- حضرت زلف میں جوں شانہ دل چاک چڑھا
- نالہ ہا حاصل اندیشہ کہ جوں کشت سپند
- گر ہمہ افتادگی جوں نقش پا ہوجائیے
- جوں برق ہے پیچیدگی بند قبا گرم
- جوں پنجۂ خرشید ہو اے دست دعا گرم
- میں رشک سے جوں آتش خاموش رہا گرم
- زینت یک پیرہن جوں دامن صحرا نہیں
- ضبط سے جوں مردمک اسپند اقامت گیر ہے
- جوں ماہیٔ بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت
- کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل
- بخیہ جوں جوہر تیغ آفت گیرائی ہے
- جوں غنچہ و گل آفت فال نظر نہ پوچھ
- جوں پر طاؤس جوہر تختہ مشق رنگ ہے
- جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- ہے شرح شوق کو بھی جوں شکوہ ناتمامی
- دل جوں شمع بہر دعوت نظارہ لایعنی
- ہوں چراغان ہوس جوں کاغذ آتش زدہ
- جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم
- چپکے چپکے جلتے ہیں جوں شمع ماتم خانہ ہم
- دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- ننگ بالیدن ہیں جوں موئے سر دیوانہ ہم
- جوں جادہ سر بہ کوئے تمناۓ بے دلی
- جوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں
- جوں جادہ گرد رہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- جوں مردمک چشم سے ہوں جمع نگاہیں
- جوں دود فراہم ہوئیں روزن میں نگاہیں
- وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل
- ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع
- گر ہمہ افتادگی جوں نقش پا ہوجائیے
- عضو عضو جوں زنجیر یک دل صدا پایا
- چشم امید سے گرتے ہیں دو عالم جوں اشک
- جوں مہ نو ہے نہاں گوشہ ابرو میں جبیں
- لالے کے داغ سے جوں نقطہ و خط سنبل زار
- پرورش پائی ہے جوں غنچہ بہ خون اظہار
- دوست اس سلسلۂ ناز کے جوں سنبل و گل
- یک تار نفس میں جوں طناب صباغ
- جوں شمع آپ اپنی وہ خوراک ہو گئے
- پر نصیب اپنا انھیں جاتا سنا جوں پھر گئے