جوش
62 Misre
- خوشا مستی کہ جوش حیرت انداز قاتل سے
- رچ گیا جوش صفا سے زلف کا اعضا میں عکس
- جوش جنوں سے جوں کسوت گل
- بزم خوباں بس کہ جوش جلوہ سے پر نور ہے
- جوش سودا کب حریف منت دستار ہے
- بس کہ جوش گریہ سے زیر و زبر ویرانہ تھا
- جوش بے کیفیتی ہے اضطراب آرا اسدؔ
- دل کو توڑا جوش بیتابی سے غالب کیا کیا
- قطرے کو جوش عرق کرتا ہے دریا دستگاہ
- جوش چکیدن عرق آئینہ کار تر
- جوش گل کرتا ہے استقبال تحریر اسدؔ
- زمیں جوش طرب سے جام لبریز سفالی ہے
- فزوں ہوتا ہے ہر دم جوش خونباری تماشا ہے
- لطافت ہاے جوش حسن کا سر شیر ہے پیدا
- چشم بے خون دل و دل تہی از جوش نگاہ
- خیال دود تھا سر جوش سوداے غلط فہمی
- جوش دل ہے مجھ سے حسن فطرت بیدل نہ پوچھ
- ہو گئے باہم دگر جوش پریشانی سے جمع
- دیکھ لی جوش جوانی کی ترقی بھی کہ اب
- داغ مہ جوش چمن سے لالۂ مہ ہو گیا
- یک رگ خواب و سراسر جوش خون آرزو
- سایۂ گل داغ و جوش نکہت گل موج دود
- جوش تکلیف تماشا محشرستان نگاہ
- جوش تکلیف تماشا محشر آباد نگاہ
- جوش فریاد سے لوں گا دیت خواب اسدؔ
- وہ سنگ کہ گلدستۂ جوش شرر آوے
- جنبش نال قلم جوش پر افشانی مجھے
- شام فراق یار میں جوش خیرہ سری سے ہم نے اسدؔ
- کثرت جوش سویدا سے نہیں تل کی جگہ
- در آب آئنہ از جوش عکس گیسوے مشکیں
- لغزش مستانہ و جوش تماشا ہے اسدؔ
- جوش نیرنگ بہار عرض صحرا دادہ سے
- جوش ویرانی ہے عشق داغ بیروں دادہ سے
- لب قدح پہ کف بادہ جوش تشنہ لبی ہے
- بہ طوفاں گاہ جوش اضطراب شام تنہائی
- دل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی
- ہے جوش گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
- جوش بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے
- جگر خائی جوش حسرت سلامت
- ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
- نے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
- اے بہ ضبط حال نا افسردگاں جوش جنوں
- ہیں بسکہ جوش بادہ سے شیشے اچھل رہے
- جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
- غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
- جوش جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں اسدؔ
- خیال دود تھا سر جوش سودائے غلط فہمی
- ہزاروں دل دیے جوش جنون عشق نے مجھ کو
- آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
- نور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج
- رہا بے قدر دل در پردۂ جوش ظہور آخر
- اے جوش عشق بادۂ مرد آزما مجھے
- ہے خون جگر جوش میں دل کھول کے روتا
- جوش بہار کلفت نظارہ ہے اسدؔ
- خوں ہوا جوش تمنا سے دو عالم کا دماغ
- جوش دوزخ ہے خزان چمن خلد بریں
- جوش بیداد تپش سے ہوئی عریاں آخر
- جوش طوفان کرم ساقی کوثر ساغر
- یہ تنک مایہ ہے فریادی جوش ایثار
- جوش جوہر سے دل آئنہ گلدستۂ خار
- جام تیرے عیاں بادۂ جوش اسرار
- از دل ہر درد مندی جوش بیتابی زدن