جو
318 Misre
- جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
- دوست گر کوئی نہیں ہے جو کرے چارہ گری
- اب اس سے ربط کروں جو بہت ستمگر ہو
- بروے آب جو ہر موج نقش مسطر ہو
- جو عزادار شہیدان نفس دردیدہ ہو
- ہوں سراپا یک خم تسلیم جو مولا کرے
- بہ مہر نامہ جو بوسہ گل پیام رہا
- وگر نہ کیجیے جو ذرہ عریاں ہم نمایاں ہیں
- ہو جو بلبل پیر و فکر اسدؔ
- وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے
- دست رنگیں سے جو رخ پروا کرے زلف رسا
- عالم آب گداز جو ہر افسانہ ہم
- رخسار یار کی جو کھلی جلوہ گستری
- کون آیا جو چمن بے تاب استقبال ہے
- حیف ہے ان کو جو سمجھیں زندگانی مفت ہے
- رز میں جو انگور نکلا عقدۂ مشکل ہوا
- نقص پر اپنے ہوا جو مطلع کامل ہوا
- کوچۂ یار جو مجھ سے قدم چند رہا
- صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے
- گیا جو نامہ بر واں سے برنگ باختہ آیا
- جو تو باندھے کف پا پر حنا آئینہ موزوں ہے
- وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
- جو اشک گرا خاک میں ہے آبلۂ پا
- جو خط ہے کف پا پہ سو ہے سلسلۂ پا
- امواج کی جو یہ شکنیں آشکار ہیں
- دیار عشق میں جاتا ہے جو سودا گری ساماں
- میں الفت مژگاں میں جو انگشت نما ہوں
- دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ سر انگشت
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو پھر اس کی
- مژگاں کی محبت میں جو انگشت نما ہوں
- کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جو گل
- قطرہ جو آنکھوں سے ٹپکا سو نگاہ آلودہ ہے
- گزرا جو آشیاں کا تصور بوقت بند
- جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
- آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
- میں بھی رک رک کے نہ مرتا جو زباں کے بدلے
- ولیکن کیا کروں آوے جو رسوائی گریباں کی
- لہو میں ہاتھ کے بھرنے کو جو وضو جانے
- کہ جو اسدؔ تپش نبض آرزو جانے
- خط جو رخ پر جانشین بالۂ مہ ہو گیا
- ہمیشہ دیدۂ گریاں کو آب رفتہ در جو تھا
- توڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا
- شوق کرے جو سر گراں محمل خواب پا سمجھ
- کل ہے جو وعدۂ وصال آج بھی اے خدا سمجھ
- دوست جو ساتھ مرے تا لب ساحل آئے
- موت بس ان کی ہے جو مر کے وہیں دفن ہوئے
- زیست ان کی ہے جو اس کوچے سے گھائل آئے
- وہ جو نازک ہے کمر اس پہ بہت دل آئے
- مجلس شعلہ عذاراں میں جو آجاتا ہوں
- جو تو دریاے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- کریں خوباں جو سیر حسن اسدؔ یک پردہ نازک تر
- اٹھائے ہیں جو میں افتادگی میں متصل صدمے
- جو چاہئے نہیں وہ مری قدر و منزلت
- ہے جو آبی پیرہن ہر موج رود نیل کی
- مدعا در پردہ یعنی جو کہوں باطل سمجھ
- آئندہ سال تک جو گرفتار رہ گیا
- اے اسدؔ رویا جو دشت غم میں میں حیرت زدہ
- جو چاہے کرے پہ دل نہ توڑے
- جو رخت خواب ہے پرویں تو ہے پرن تکیہ
- رکھے جو بیچ میں وہ شوخ سیمتن تکیہ
- غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کو
- جو بعد قتل مرا دشت میں مزار بنا
- روا رکھو نہ رکھو تھا جو لفظ تکیہ کلام
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- دل سے اٹھے ہے جو غبار گرد سواد باغ ہے
- تشنۂ خون تماشا جو وہ پانی مانگے
- جو کچھ ہے محو شوخی ابروے یار ہے
- نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
- میں جو گردوں کو بہ میزان طبیعت تولا
- ورنہ جو چاہیے اسباب تمنا سب تھا
- اس شعلے نے گلگوں کو جو گلشن میں کیا گرم
- جو بشام غم چراغ خلوت دل تھا اسدؔ
- کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
- مژگاں کی محبت میں جو انگشت نما ہوں
- دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ سر انگشت
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو عجب کیا
- میں الفت مژگاں میں جو انگشت نما ہوں
- ہے گریباں ننگ پیراہن جو دامن میں نہیں
- رنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں
- آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
- نقش پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
- غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
- توڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا
- ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
- خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
- مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے
- جو ہوا غرقۂ مے بخت رسا رکھتا ہے
- بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
- جو ہے تجھے سر سوداۓ انتظار تو آ
- جو پانو اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے
- جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
- تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
- تم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے
- تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
- سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف سب درست
- وہ جو کاغذ میں دوا باندھتے ہیں
- جو گرہ آپ نہ کھولی اسے مشکل باندھا
- نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
- جو کچھ ہے محو شوخی ابروئے یار ہے
- تو اس قد دل کش سے جو گلزار میں آوے
- جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے
- حسرت میں رہے ایک بت عربدہ جو کی
- جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- نہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے
- جو بصورت چراغاں کرے شعلہ نرد بانی
- جو امیدوار رہیے نہ بہ مرگ ناگہانی
- جو ملی تو تلخ کامی جو ہوئی تو سرگرانی
- ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
- قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے
- ہے کیا جو کس کے باندھئے میری بلا ڈرے
- صبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے
- نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا
- کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا
- رہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہائے ہائے
- آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
- جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
- دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
- مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور
- مجھ سا کافر کہ جو ممنون معاصی نہ ہوا
- بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
- مژدۂ قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں
- میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیں
- جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
- دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
- یہ جو اک لذت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے
- اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے
- جو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں
- لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا
- کرے جو پرتو خورشید عالم شبنمستاں کا
- جو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- مشہد عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حنا
- جو کہ کھایا خون دل بے منت کیموس تھا
- شعلے سے نہ ہوتی ہوس شعلہ نے جو کی
- جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
- آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
- جو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا
- یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے
- خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
- لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
- سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے
- ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
- میں جو گستاخ ہوں آئین غزل خوانی میں
- صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
- دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
- میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے
- یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
- یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نے
- دل و جگر میں پر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہے
- ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
- اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
- غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیے
- مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح
- جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی
- اردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے
- ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کا
- شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
- کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
- ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔ
- کیا تعجب ہے جو اس کو دیکھ کر آ جائے رحم
- آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں
- یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
- خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
- وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
- آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
- میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
- جو منکر وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے
- آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
- چل نکلتے جو مے پیے ہوتے
- قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو
- جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا
- تشنۂ خون تماشا جو وہ پانی مانگے
- گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی
- جو آؤں سامنے ان کے تو مرحبا نہ کہیں
- جو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیرباد نہیں
- کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیں
- شب مہ ہو جو رکھ دوں پنبہ دیواروں کے روزن میں
- جو گل ہوں تو ہوں گلخن میں جو خس ہوں تو ہوں گلشن میں
- واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
- سر اڑانے کے جو وعدے کو مکرر چاہا
- نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے
- پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے
- کہا جو اس نے ذرا میرے پاؤں داب تو دے
- واں جو جاویں گرہ میں مال کہاں
- غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
- باعث واماندگی ہے عمر فرصت جو مجھے
- وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے
- دہان ہر بت پیغارہ جو زنجیر رسوائی
- دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا
- پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
- یک قلم منظور ہے جو کچھ پریشانی کرے
- وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
- دہن اس کا جو نہ معلوم ہوا
- وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے
- نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو
- ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
- ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
- ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
- کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
- تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے
- مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے
- جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے
- جو ناسزا کہے اس کو نہ ناسزا کہیے
- جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں
- دل میں آ جاے ہے ہوتی ہے جو فرصت غش سے
- آگ مطلوب ہے ہم کو جو ہوا کہتے ہیں
- بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوار یار میں
- سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
- جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
- جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو
- نہ مانے دیدۂ دیدار جو تو کیونکر ہو
- وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
- گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
- کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
- وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
- پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
- میں نے جنوں سے کی جو اسدؔ التماس رنگ
- دو دن بھی جو کاٹے تو قیامت تعبوں سے
- دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
- ہوتے جو کئی دیدۂ خوں نابہ فشاں اور
- کرتا جو نہ مرتا کوئی دن آہ و فغاں اور
- جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیا
- خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو
- یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
- ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
- جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
- تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
- یہ خرگہ نہ پایۂ جو مدت سے بپا ہے
- تم نے مجھ کو جو آبرو بخشی
- میری تنخواہ جو مقرر ہے
- جو آئے جام بھر کے پیے اور ہو کے مست
- ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلی
- اس طرف کو نہیں جاتے ہیں جو جاتے ہیں تو کم
- در شہوار ہیں جو گرتے ہیں قطرے پیہم
- جو ائمہ کے ہیں تولائی
- کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
- سو اناج کے جو ہے مقلوب جاں
- ہر ایک قطرے کے ساتھ آئے جو ملک وہ کہے
- ہے مقرر جو اب پئے تعلیم
- اس سے جو کوئی بہرہ ور ہو گا
- آج جو دیدہ ور کرے درخواست
- میں جو ہوں در پے حصول شرف
- مجھے جو بھیجی ہے بیسن کی روغنی روٹی
- جو کھاتے حضرت آدم یہ بیسنی روٹی
- تجھ سے جو اتنی ارادت ہے تو کس بات سے ہے
- کل اس کتاب کے سال تمام میں جو مجھے
- جہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے
- کہ جو شریک ہو میرا شریک غالبؔ ہے
- باندھنے کو جو ترے سر پہ اٹھایا سہرا
- جنبش باد سحر نے جو ہلایا سہرا
- رخ پہ دولھا کے جو گرمی سے پسینا ٹپکا
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- نہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے
- جو بہ صورت چراغاں کرے شعلہ نرد بانی
- جو امیدوار رہیے نہ بہ مرگ ناگہانی
- جو ملی تو تلخ کامی جو ہوئی تو سرگرانی
- درد ہوتا ہے مرے دل میں جو توڑوں بالیں
- برگ گل کا ہو جو طوفان ہوا میں عالم
- خاکیوں کو جو خدا نے دیے جان و دل و دیں
- جو عقدہ دشوار کہ کوشش سے نہ وا ہو
- ہے فخر سلیماں جو کرے تیری وزارت
- یقین جان برس گانٹھ کا جو تاگا ہے
- جو یاں گنیں گے تو پاویں گے نو ہزار گرہ
- پڑی ہے یہ جو بہت سخت نابکار گرہ
- صبح جو جائے اور آئے شام
- جو کہ بخشے گا تجھ کو فر فروغ
- دربار میں جو مجھ پہ چلی چشمک عوام
- تھا ایک گونہ ناز جو اپنے کمال پر
- جو واں نہ کہہ سکا وہ لکھا ہے حضور کو
- وکٹوریا کا دہر میں جو مدح خوان ہو
- کبھی جو ہوتی ہے الجھی ہوئی دم روباہ
- زہے ستارۂ روشن کہ جو اسے دیکھے
- راجہ اندر کا جو اکھاڑا ہے
- اس اکھاڑے میں جو کہ ہے مظنوں
- سرور مہر فر ہوا جو سوار
- ہے قلم کی جو سجدہ ریز جبیں
- خاک در کی ترے جو چشم نہ ہو آئنہ دار
- اصحاب کو جو کہ ناسزا کہتے ہیں
- بھیجی ہے جو مجھ کو شاہ جمجاہ نے دال
- یہ دی جو گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھ
- دہری کیوں کر ہو جو کہ ہووے صوفی
- جو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہو گا
- دل تھا کہ جو جان درد تمہید سہی
- بھیجے ہیں جو ارمغاں شہ والا نے
- کرے جو ان سے برائی بھلا کہیں اس کو
- رکھے امام سے جو بغض کیا کہیں اس کو
- خاص وہ آم جو نہ ارزاں ہو
- یہ جو محفل میں بڑھاتے ہیں تجھے
- روٹھا جو بے گناہ تو بے عذر من گیا
- جو حد تقوی ادا نہ ہووے تو اپنا مذہب یہی ہے غالبؔ
- جو معشوق زلف دوتا باندھتے ہیں
- جو ہو جاوے نثار برق مشت خار و خس بہتر
- شمشیر صاف یار جو زہراب دادہ ہو
- وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
- یاد آیا جو وہ کہنا کہ نہیں واہ غلط
- جو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے
- کعبہ مکہ وہ جو ہے بیت الحرام
- آب پانی بحر دریا نہر جو
- دودھ جو پینے کا ہے وہ شیر ہے
- گال پر جو تل ہو اس کو خال کہہ
- پھر غلیواز اس کو کہیے جو ہے چیل
- جو برا ہے اس کو ہم کہتے ہیں زشت
- جو کہ بے چین اور بے آرام ہے
- جو ہے انگڑائی وہی خمیازہ ہے
- جو نئی ہو چیز اسے کہیے جدید
- ہے نصیحت بھی وہی جو پند ہے
- ہے وہی انسان جو جاہل نہیں
- آج ہنستے آپ جو کھل کھل نہیں
- مثل زخم آنکھوں کو سی دیتا جو ہوتا ہوشیار
- تو صداے پا سے جاگا تھا جو محو خواب ناز
- کی تھی پوری ہم نے جو تدبیر آدھی رہ گئی
- نامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی بات
- پاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شب
- تم جو فرماتے ہو دیکھ اے غالبؔ آشفتہ سر