جنوں
67 Misre
- جوش جنوں سے جوں کسوت گل
- حیرت آئینۂ انجام جنوں ہوں جوں شمع
- فصل گل میں دیدۂ خونیں نگاہان جنوں
- بینش بہ سعی ضبط جنوں نو بہار تر
- میں ہمہ حیرت جنوں بے تاب دوران خمار
- جنوں کر اے چمن تحریر درس شغل تنہائی
- دعواے جنوں باطل تسلیم عبث حاصل
- ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز
- جنوں نے مجھ کو بنایا ہے مدعی میرا
- وصل ہر رنگ جنوں کسوت رسوائی ہے
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- عینک چشم جنوں حلقۂ کا کل تا چند
- بیخودی فرماں رواے حیرت آباد جنوں
- کرنے نہ پائے ضعف سے شور جنوں اسدؔ
- نے صبا بال پری نے شعلہ سامان جنوں
- جنوں رسوائی وارستگی زنجیر بہتر ہے
- کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
- مجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھی
- جنوں فسردۂ تمکیں ہے کاش عہد وفا
- فکر پرواز جنوں ہے سبب ضبط نہ پوچھ
- دی لطف ہوا نے بہ جنوں طرفہ نزاکت
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- جنوں افسردہ و جاں ناتواں اے جلوہ شوخی کر
- جنوں کو سخت بیتابی ہے تکلیف شکیبائی
- خرابات جنوں میں ہے اسدؔ وقت قدح نوشی
- اس بیاباں میں گرفتار جنوں ہوں کہ جہاں
- خمخانۂ جنوں میں دماغ رسیدہ ہوں
- جنوں معاملہ بیدل فقیر مسکیں ہے
- سنبلستان جنوں ہوں ستم نسبت زلف
- شوق عناں گسل اگر درس جنوں ہوس کرے
- اے ہرزہ دری منت تمکین جنوں کھینچ
- زاہد کہ جنوں سبحۂ تحقیق ہے یارب
- نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- حیرت آئنہ انجام جنوں ہوں جیوں شمع
- تکلف بر طرف تھا ایک انداز جنوں وہ بھی
- لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
- جنوں کر اے چمن تحریر درس شغل تنہائی
- نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
- بیکاری جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل
- جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا
- جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- کہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی
- نہ پوچھ وسعت مے خانۂ جنوں غالبؔ
- ہے جنوں اہل جنوں کے لیے آغوش وداع
- انہیں سوال پہ زعم جنوں ہے کیوں لڑیے
- ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے
- کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
- میں بھی معذور جنوں ہوں اسدؔ اے خانہ خراب
- ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز
- اے بہ ضبط حال نا افسردگاں جوش جنوں
- جوش جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں اسدؔ
- نکوہش مانع بے ربطی شور جنوں آئی
- نکوہش مانع دیوانگی ہائے جنوں آئی
- نے اسدؔ جفا سائل نے ستم جنوں مائل
- ملی نہ وسعت جولان یک جنوں ہم کو
- مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بقول حضور
- اثر آبلہ سے جادۂ صحرائے جنوں
- نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب
- میں نے جنوں سے کی جو اسدؔ التماس رنگ
- سودا نہیں جنوں نہیں وحشت نہیں مجھے
- کہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی
- دل سوز جنوں سے جلوہ منظر ہے آج