جمع
18 Misre
- چاہیے خاطر جمع و دل آرامیدہ
- ہو گئے باہم دگر جوش پریشانی سے جمع
- تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
- صفا کب جمع ہوسکتی ہے غیر از گوشہ گبری ہا
- ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہ آفتاب
- کردنی ہے جمع تاب شوخیٔ دیدار دوست
- تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
- جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
- کیوں نہ ہو بے التفاتی اس کی خاطر جمع ہے
- ہیں جمع سویداۓ دل چشم میں آہیں
- جوں مردمک چشم سے ہوں جمع نگاہیں
- کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو
- دل فرد جمع و خرچ زباں ہائے لال ہے
- مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
- تکلف بر طرف ذوق زلیخا جمع کر ورنہ
- جمع ہوتی مری خاطر تو نہ کرتا تعجیل
- جمع ہرگز ہوے نہ ہونگے کہیں
- جمع اس کی یاد رکھ اصحاب ہے