جلوۂ
64 Misre
- عاشق نقاب جلوۂ جانانہ چاہیے
- باقلیم سخن ہے جلوۂ گرد سواد آتش
- برق سامان نظر ہے جلوۂ بے باک حسن
- ورنہ صد محشر بہ رہن جلوۂ رخسار ہے
- تمثال ناز جلوۂ نیرنگ اعتبار
- جلوۂ بینش پناہ بخشے ہے ذوق نگاہ
- کہ بخیہ جلوۂ آثار زخم دنداں ہے
- ہے جلوۂ خیال سویداے مردمک
- جلوۂ خرشید سے ہے گرم پہلوے ہلال
- ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک
- نہ بخشی فرصت یک شبنمستاں جلوۂ خور نے
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- پیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا
- کلفت طلسم جلوۂ کیفیت دگر
- گر جلوۂ خرشید خریدار وفا ہو
- صد جلوۂ آئینہ یک صبح جدائی ہے
- جلوۂ باغ ہے در پردہ ناسور ہنوز
- مژہ پہلوے چشم اے جلوۂ ادراک باقی ہے
- گریہ وحشت بے قرار جلوۂ مہتاب تھا
- رات دل گرم خیال جلوۂ جانانہ تھا
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آبجو
- جلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا
- حیرت کاغذ آتش زدہ ہے جلوۂ عمر
- مفت صفاے طبع ہے جلوۂ ناز سوختن
- بس کہ تیرے جلوۂ دیدار کا ہے اشتیاق
- ہوتے ہیں محو جلوۂ خور سے ستارگاں
- وقت خیال جلوۂ حسن بتاں اسدؔ
- گر ہے سر دریوزگی جلوۂ دیدار
- جوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا
- جلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں
- کون لا سکتا ہے تاب جلوۂ دیدار دوست
- پیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا
- ہوش اڑتے ہیں مرے جلوۂ گل دیکھ اسدؔ
- گئی نہ خاک ہوئے پر ہواۓ جلوۂ ناز
- ز بسکہ جلوۂ صییاد حیرت آرا ہے
- اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
- بال تدرو جلوۂ موج شراب ہے
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
- جلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا
- ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک
- بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشا غالبؔ
- کہ غیر جلوۂ گل رہ گزر میں خاک نہیں
- خیال جلوۂ گل سے خراب ہیں میکش
- ہوئے اس مہروش کے جلوۂ تمثال کے آگے
- زکات حسن دے اے جلوۂ بینش کہ مہر آسا
- یک بیاباں جلوۂ گل فرش پا انداز ہے
- جلوۂ خور سے فنا ہوتی ہے شبنم غالبؔ
- گردش ساغر صد جلوۂ رنگیں تجھ سے
- جس کی صدا ہو جلوۂ برق فنا مجھے
- عاشق نقاب جلوۂ جانانہ چاہیے
- سطوت سے تیرے جلوۂ حسن غیور کی
- جلوۂ مدعا نظر آیا
- دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
- جلوۂ ریگ رواں دیکھ کے گردوں ہر صبح
- جلوۂ برق سے ہوجائے نگہ عکس پذیر
- جلوۂ لولیان ماہ جبیں
- حسرت جلوۂ ساقی ہے کہ ہر پارۂ ابر
- نشہ و جلوۂ گل برسر ہم فتنہ غبار
- یک چمن جلوۂ یوسف ہے بچشم یعقوب
- طور مشعل بکف از جلوۂ تنزیہ بہار
- جلوۂ تمثال ہے ہر ذرہ نیرنگ سواد
- جلوۂ طور نمک سودۂ زخم تکرار
- جس چمن میں ہو ترا جلوۂ محروم نواز