جلوہ
80 Misre
- جادۂ صحرائے آگاہی، شعاع جلوہ ہے
- صلح گل گرد ادب گاہ نزاع جلوہ ہے
- آئینہ یک دست رد امتناع جلوہ ہے
- اگر وہ آفت نظارہ جلوہ گستر ہو
- ہے نزاکت جلوہ اے ظالم سیہ خامی تری
- بقدر حوصلۂ عشق جلوہ ریزی ہے
- صفاے اشک میں داغ جگر جلوہ دکھاتے ہیں
- یہ کس بے مہر کی تمثال کا ہے جلوہ سیمابی
- لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
- بزم خوباں بس کہ جوش جلوہ سے پر نور ہے
- بس کہ شرم عارض رنگیں سے حیرت جلوہ ہے
- انتظار جلوہ کاکل میں ہر شمشاد باغ
- ہوے ہیں پردہ ہائے چشم عبرت جلوہ حائل ہا
- رخسار یار کی جو کھلی جلوہ گستری
- سعی خرام کاوش ایجاد جلوہ ہے
- حیرت حجاب جلوہ و وحشت غبار چشم
- حیا کو انتظار جلوہ ریزی کے کمیں پایا
- صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے
- ہنوز حسن کو ہے سعی جلوہ اندوزی
- قباے جلوہ فزا ہے لباس عریانی
- بہار باغ پامال خرام جلوہ فرمایاں
- نیاز جلوہ ریزی طاقت بالیں شکستن ہا
- اسدؔ تاثیر صافی ہاے حیرت جلوہ پرور ہو
- تھا خواب میں کیا جلوہ پرستار زلیخا
- وہ جلوہ کر کہ نہ میں جانوں اور نہ تو جانے
- شب کہ وہ گل باغ میں تھا جلوہ فرما اے اسدؔ
- جلوہ نہیں ہے درد سر آئنہ صندلی نہ کر
- صبح دم وہ جلوہ ریز بے نقابی ہو اگر
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- عبث ہے خط ساغر جلوہ طوق گردن قمری
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- نگہ غبار ادب گاہ جلوہ فرمائی
- دو عالم دیدۂ بسمل چراغاں جلوہ پیمائی
- تحیر ہے گریباں گیر ذوق جلوہ پیرائی
- جنوں افسردہ و جاں ناتواں اے جلوہ شوخی کر
- پرواز نقد دام تمناے جلوہ تھا
- جلوہ مایوس نہیں دل نگرانی غافل
- حسن آشفتگی جلوہ ہے عرض اعجاز
- جہاں شمع خموشی جلوہ گر ہے
- اس قامت رعنا کی جہاں جلوہ گری ہے
- بہار سنبلستان جلوہ گر ہے آں سوے دریا
- ہم زانوئے تأمل و ہم جلوہ گاہ گل
- دل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانی
- یوسف گل جلوہ فرما ہے بہ بازار چمن
- جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
- ہے تصور میں ز بس جلوہ نما موج شراب
- ہوئی ہے کس قدر ارزانی مۓ جلوہ
- بہ قدر حوصلۂ عشق جلوہ ریزی ہے
- لیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو
- عدم ہے خیر خواہ جلوہ کو زندان بیتابی
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں
- حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے
- آئنہ زانوئے فکر اختراع جلوہ ہے
- چشم وا گردیدہ آغوش وداع جلوہ ہے
- گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیا
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- بہ جلوہ ریزی باد و بہ پر فشانی شمع
- جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی
- صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
- ساقی بہ جلوہ دشمن ایمان و آگہی
- یارب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا
- لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
- کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت
- کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
- تو ہوا جلوہ گر مبارک ہو
- دل و دین و خرد تاراج ناز جلوہ پیرائی
- چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
- جلوہ پھر عرض ناز کرتا ہے
- وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔ
- تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
- جلوہ رفتار سر جادۂ شرع تسلیم
- جلوہ پرواز ہو نقش قدم اس کا جس جا
- کفر سوز اس کا وہ جلوہ ہے کہ جس سے ٹوٹے
- نگہ جلوہ پرست و نفس صدق گزیں
- بہ ہواے چمن جلوہ ہے طاؤس پرست
- جلوہ ہے ساقی مخموری تاب دیوار
- دل سوز جنوں سے جلوہ منظر ہے آج
- الفت کی نہ تھی جلوہ نمائی کس میں
- تمثال جلوہ عرض کر اے حسن کب تلک