جل
21 Misre
- دل و جگر تف فرقت سے جل کے خاک ہوئے
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- خوشا عجزے کہ عاشق جل بجھے جوں شعلۂ خامش
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
- آتش خاموش کی مانند گویا جل گیا
- آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
- میری آہ آتشیں سے بال عنقا جل گیا
- کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
- اس چراغاں کا کروں کیا کار فرما جل گیا
- دیکھ کر طرز تپاک اہل دنیا جل گیا
- شعلہ رو جب ہو گئے گرم تماشا جل گیا
- دل بہ سوز آتش داغ تمنا جل گیا
- دل ز انداز تپاک اہل دنیا جل گیا
- بسکہ شوق آتش گل سے سراپا جل گیا
- غنچۂ گل پرفشاں پروانہ آسا جل گیا
- کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
- جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا
- گر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کو
- گاہ جل کر کیا کیے شکوہ
- جل اٹھے گرمی رفتار سے پاے چوبیں