جفا
21 Misre
- جفا شوخ و ہوس گستاخ مطلب ہے مگر عاشق
- اسدؔ فریفتۂ انتخاب طرز جفا
- خار سے گل سینہ افگار جفا ہے اے اسدؔ
- اس جفا مشرب پہ عاشق ہوں کہ سمجھے ہے اسدؔ
- میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی
- آسایش وفاہا بیتابی جفا ہے
- نہ اتنا برش تیغ جفا پر ناز فرماؤ
- کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
- اسدؔ فریفتۂ انتخاب طرز جفا
- نہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے
- بارے آرام سے ہیں اہل جفا میرے بعد
- شکوۂ جور سے سرگرم جفا ہوتا ہے
- اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ
- ہے تقاضائے جفا شکوۂ بیداد نہیں
- نے اسدؔ جفا سائل نے ستم جنوں مائل
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
- جفا میں اس کی ہے انداز کار فرما کا
- ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں
- نہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے
- ستم ہے کشتۂ تیغ جفا کہیں اس کو