جسے
34 Misre
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- وحشی خو کردۂ نظارہ ہے حیرت جسے
- مجھ کو وہ دو کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں
- وہ غریب وحشت آباد تسلی ہوں جسے
- جسے تو بندگی کہتا ہے دعوا ہے خدائی کا
- آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
- ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
- گلدستۂ نگاہ سویدا کہیں جسے
- افسون انتظار تمنا کہیں جسے
- وہ ایک مشت خاک کہ صحرا کہیں جسے
- شوق عناں گسیختہ دریا کہیں جسے
- صبح بہار پنبۂ مینا کہیں جسے
- ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
- یہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے
- مژگان کوہکن رگ خارا کہیں جسے
- زخم فراق خندۂ بیجا کہیں جسے
- بخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی
- جسے موئے دماغ بے خودی خواب زلیخا ہو
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- جسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا
- جسے نصیب ہو روز سیاہ میرا سا
- جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
- صبح دم باغ میں آ جائے جسے ہو نہ یقیں
- ہو سخن کی جسے طلب گاری
- جسے کہتے ہیں خوشی اس نے بلائیں لے کر
- واں کی خاشاک سے حاصل ہو جسے یک پرکاہ
- نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد کافر ہے
- کرتا ہے گل جنون تماشا کہیں جسے
- گلدستۂ نگاہ سویدا کہیں جسے
- ہے وہی کژدم جسے عقرب کہیں
- دیگداں چولہا جسے کہیے اجاغ
- وہ سرودن ہے جسے گانا کہیں
- ہے وہ آوردن جسے لانا کہیں
- وہ چراوے باغ میں میوہ جسے