جس
159 Misre
- جس دل میں کہ تابکے سماجائے
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بکف دامان صحرا ہے
- جس جگہ ہو مسند آرا جانشین مصطفی
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- اسدؔ جس شوق سے ذرے تپش فرسا ہوں روزن میں
- جس طرف سے آئے ہیں آخر ادھر ہی جائیں گے
- جس دم کہ جادہ دار ہو تار نفس تمام
- جس جا کہ پاے سیل بلا درمیاں نہیں
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- وہ بے دماغ جس کو ہوس بھی تپاک ہے
- آئیں جس بزم میں وہ لوگ پکار اٹھتے ہیں
- جس گزرگاہ سے میں آبلہ پا جاتا ہوں
- کہ جس کے ہاتھ میں مانند خوں رنگ حنا گم ہو
- مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
- آسمان سفلہ جس میں یک کف سیلاب تھا
- پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسدؔ
- ہم اور تم فلک پیر جس کو کہتے ہیں
- آسمان سفلہ جس میں یک کف سیلاب تھا
- وہ تشنۂ سرشار تمنا ہوں کہ جس کو
- گردش محیط ظلم رہا جس قدر فلک
- کہ جس کے در پہ غنچہ شکل قفل زر نہیں ہوتا
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- پنبہ نور صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
- بزم ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم اسدؔ
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- واسطے جس شہہ کے غالبؔ گنبد بے در کھلا
- جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
- جس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ ناز
- اللہ رے تیری تندی خو جس کے بیم سے
- ہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
- بھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے
- گردش محیط ظلم رہا جس قدر فلک
- جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
- جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے
- جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
- کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
- اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دے
- مرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو
- وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے
- جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
- کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے
- جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
- کھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے
- دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
- جوش بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے
- دشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
- یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک
- تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
- جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
- ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
- پی جس قدر ملے شب مہتاب میں شراب
- کیا غم ہے اس کو جس کا علیؔ سا امام ہو
- ہوئی جس کو بہار فرصت ہستی سے آگاہی
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
- جس دل میں کہ تابکے سما جائے
- اس چمن میں ریشہ داری جس نے سر کھینچا اسدؔ
- کیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگان سوزن کو
- کہ پشت چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر
- جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بہ کف دامان صحرا ہے
- جس نالہ سے شگاف پڑے آفتاب میں
- جس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں
- کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
- مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
- ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیں
- آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
- بنا ہے چرخ بریں جس کے آستاں کے لیے
- جس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گلباز
- مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
- کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
- منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
- گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
- ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
- ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
- ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
- جس قدر جگر خوں ہو کوچہ دادن گل ہے
- تجھ کو جس قدر ڈھونڈا الفت آزما پایا
- وہ زخم تیغ ہے جس کو کہ دل کشا کہیے
- جس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے
- کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
- وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔ
- وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
- اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
- جس جا کہ پائے سیل بلا درمیاں نہیں
- جس کی صدا ہو جلوۂ برق فنا مجھے
- جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ
- جس کا خیال ہے گل جیب قبائے گل
- کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
- چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
- زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے
- جس طرح باغ میں ساون کی گھٹائیں برسیں
- جس میں وفا و مہر و محبت کا ہے وفور
- جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
- جس سے ہے چشم جاں کو بینائی
- جس سے ایماں کو ہے توانائی
- کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ
- چشم بینش ہو جس سے نورانی
- بار ور جس کا سرو گل بے خار
- جس کو منظور ہو کہ زر بھیجے
- جس کو کہتے ہیں عمدۃ الحکما
- خستگی کا ہو بھلا جس کے سبب سے سر دست
- کہ جس میں حکمت و طب ہی کے مسئلے ہیں تمام
- سجدہ تمثال وہ آئینہ کہیں جس کو جبیں
- نقش پا جس کا ہے توحید کو معراج جبیں
- جلوہ پرواز ہو نقش قدم اس کا جس جا
- کفر سوز اس کا وہ جلوہ ہے کہ جس سے ٹوٹے
- جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام
- چرخ نے لی ہے جس سے گردش وام
- کون ہے جس کے در پہ ناصبہ سا
- جس کا ہر فعل صورت اعجاز
- جس کا ہر قول معنی الہام
- جس بزم میں کہ ہو انھیں آہنگ میکشی
- سچ ہے تم آفتاب ہو جس کے فروغ سے
- تحریر ایک جس سے ہوا بندہ تلخ کام
- وہ فرد جس میں نام ہے میرا غلط لکھا
- جس نے جلا کے راکھ مجھے کردیا تمام
- بے وجہ کیوں ذلیل ہو غالبؔ ہے جس کا نام
- کہ باج تاج سے لیتا ہے جس کا طرف کلاہ
- نیابت دم عیسی کرے ہے جس کی نگاہ
- وہ عین عدل کہ دہشت سے جس کی پرسش کی
- جس طرح ہے سپہر پر پرویں
- جس نے برباد کیا ریشۂ چندیں شب تار
- ورنہ وہ ناز ہے جس گلشن بیداد سے تھا
- بیم سے جس کے صبا توڑے ہے صد جا زنار
- وہ شہنشاہ کہ جس کی پئے تعمیر سرا
- موج ابروے قضا جس کے تصور سے دو نیم
- بیم سے جس کے دل شحنۂ تقدیر فگار
- نرم رفتار ہو جس کوہ پہ وہ برق گداز
- جس کے حیرت کدۂ نقش قدم میں مانی
- جس چمن میں ہو ترا جلوۂ محروم نواز
- جس ادب گاہ میں تو آئنہ شوخی ہو
- وہ کہ جس کی صورت تکوین میں
- وہ کہ جس کے ناخن تاویل سے
- لاٹھی وہ لگے کہ جس میں آواز نہ ہو
- ان چار میں ایک سے ہو جس کو انکار
- مسیح جس سے کرے اخذ فیض جاں بخشی
- وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل سبیل
- دیکھتا ہوں اسے تھی جس کی تمنا مجھ کو
- جس دن سے کہ ہم غمزدہ زنجیر بپا ہیں
- جس کے پڑھنے سے ہو راضی بے نیاز
- اسم وہ ہے جس کو تم کہتے ہو نام
- نیش ہے وہ ڈنک جس کو سب کہیں
- مینگنی جس کو کہیں وہ پشک ہے
- جس کو نقارا کہیں وہ کوس ہے
- جس کو ناداں کہیے وہ انجان ہے
- جس کو کہتے ہیں جمائی فازہ ہے
- جس طرح گہنے کی زیور فارسی
- جس کو جھولی کہیے وہ زنبیل ہے
- جس نے قادر نامہ سارا پڑھ لیا
- جس کے حسن روز افزوں کی یہ اک ادنی ہے بات