جز
59 Misre
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروے کار
- یاں جز فسوں نہیں اگر افسانہ چاہیے
- متاع خانۂ زنجیر جز صدا معلوم
- حلقۂ زنجیر جز چشم تماشائی نہیں
- جز حیا پیکار سعی بے سروپائی نہیں
- آمد و رفت نفس جز شعلہ پیمائی نہیں
- نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
- جز خط عجز نقش تمنا نہ کھینچیے
- جز غبار کردہ سیر آہنگی پرواز کو
- جب کہ نقش مدعا ہووے نہ جز موج سراب
- زبس جز حسن منت ناگوارا ہے طبیعت پر
- نہیں برق و شرر جز وحشت و ضبط تپیدن ہا
- اشک سحاب جز بوداع خزاں نہیں
- جز عجز کیا کروں بہ تمناے بے خودی
- یہ گرد وہم جز بسر امتحاں نہیں
- شمع سے جز عرض افسون گداز دل نہ پوچھ
- یاں سراغ عافیت جز دیدۂ بسمل نہ پوچھ
- شاعری جز ساز درویشی نہیں حاصل نہ پوچھ
- جز خاک بسر کردن بے فائدہ حاصل
- نہیں گرداب جز سرگشتگی ہاے طلب ہرگز
- غفلت دیوانہ جز تمہید آگاہی نہیں
- نہیں جز درد تسکین نکوہش ہاے بیدر داں
- ہستی نہیں جز بستن پیمان وفا ہیچ
- آہنگ اسدؔ میں نہیں جز نغمۂ بیدل
- نہیں ہے مردن صاحب دلاں جز کسب جمعیت
- ویرانے سے جز آمد و رفت نفس نہیں
- لخت لخت شیشۂ بشکستہ جز نشتر نہیں
- نہیں ہے ضبط جز مشاطگی ہاے غم آرائی
- چاہے گر جنت جز آدم وارث آدم نہیں
- جز آہ کہ سر لشکر وحشت علمی ہے
- چشم بند خلق جز تمثال خود بینی نہیں
- غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
- جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور
- جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے
- متاع خانۂ زنجیر جز صدا معلوم
- نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
- جوہر آئینہ جز رمز سر مژگاں نہیں
- حاصل الفت نہ دیکھا جز شکست آرزو
- جز تار اشک جادۂ منزل نہیں رہا
- جادۂ راہ وفا جز دم شمشیر نہیں
- جز زخم تیغ ناز نہیں دل میں آرزو
- نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں
- اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا
- نہیں برق و شرر جز وحشت ضبط تپیدن ہا
- شوخی اظہار کو جز وحشت مجنوں اسدؔ
- جز بہر دست و بازوئے قاتل دعا نہ مانگ
- جز پشت چشم نسخہ عرض دوا نہ مانگ
- اشک سحاب جز بہ وداع خزاں نہیں
- جز عجز کیا کروں بہ تمنائے بے خودی
- یہ گرد وہم جز بسر امتحاں نہیں
- ضبط سے مطلب بہ جز وارستگی دیگر نہیں
- لخت لخت شیشۂ بشکستہ جز نشتر نہیں
- جز دل سراغ درد بہ دل خفتگاں نہ پوچھ
- یاں جز فسوں نہیں اگر افسانہ چاہیے
- جز انبساط خاطر حضرت نہیں مجھے
- دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
- جز بہ تقریب عید ماہ صیام
- جز غم و رنج و الم گھاٹا ہے ہر یک بات میں