جرم
8 Misre
رہا کس جرم سے میں بیقرار داغ ہم طرحی
لا جرم توڑ کے عاجز قلم چند رہا
زخم دوزی جرم و پیراہن دریدن منع ہے
کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول
کیا سزا ہے میرے جرم آرزو تاویل کی
نہ مارا جان کر بے جرم غافل تیری گردن پر
غلط ہے جذب دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول
ج
All Letters