جبیں
16 Misre
- خضر کو چشمۂ آب بقا سے تر جبیں پایا
- جبیں پر میری مد خامۂ قدرت خط چیں ہے
- تجھے ہم مفت دیویں یک جہاں چین جبیں لیکن
- کہ یاں گم کر جبیں سجدہ فرسا آستانے میں
- تر جبیں رکھتی ہے شرم قطرہ سامانی مجھے
- گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
- وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
- گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں
- سجدہ تمثال وہ آئینہ کہیں جس کو جبیں
- جوں مہ نو ہے نہاں گوشہ ابرو میں جبیں
- نقش پا جس کا ہے توحید کو معراج جبیں
- تیری تسلیم کو ہیں لوح و قلم دست و جبیں
- کہ جہاں تک چلے اس سے قدم اور مجھ سے جبیں
- جلوۂ لولیان ماہ جبیں
- ہے قلم کی جو سجدہ ریز جبیں
- عنق گردن اور پیشانی جبیں