جب
82 Misre
- جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
- توڑ بیٹھے جب کہ ہم جام و سبو پھر ہم کو کیا
- جب نہ پاؤں کوئی غم خوار کہوں یا نہ کہوں
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- جب کہ نقش مدعا ہووے نہ جز موج سراب
- ہوا جب حسن کم خط بر عذار سادہ آتا ہے
- نگاہ ناز نے جب عرض تکلیف شرارت کی
- شہ گل نے کیا جب بندوبست گلشن آرائی
- تم کرو صاحب قرانی جب تلک
- جب نالہ خوں ہو غافل تاثیر کیا بلا ہے
- جوں اشک جب تلک نہ رکھوں دست و پا گرو
- دم جب کہ بہ وقت نزع توڑے
- جب ہوے ہم بے گنہ رحمت کی کیا تقصیر ہے
- جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
- جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعف دماغ
- کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
- جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
- جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
- پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیں
- جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
- جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی
- چاک جگر سے جب رہ پرسش نہ وا ہوئی
- جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
- جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
- جب لخت جگر دیدۂ خوں بار میں آوے
- مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازک
- جب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
- جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
- حریف وحشت ناز نسیم عشق جب آؤں
- رگ و پے میں جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہو
- در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
- تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
- شعلہ رو جب ہو گئے گرم تماشا جل گیا
- جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
- جب وہ جمال دلفروز صورت مہر نیمروز
- دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
- میرے غم خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگی
- جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
- جب کرم رخصت بیباکی و گستاخی دے
- جب رشتہ بے گرہ تھا ناخن گرہ کشا تھا
- ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
- چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
- سبزہ کو جب کہیں جگہ نہ ملی
- نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
- وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
- کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
- عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
- وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
- سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا غالبؔ
- پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے
- گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
- کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخن
- جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
- تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
- پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
- حق سے کیا مانگیے ان کے لیے جب ہو موجود
- ہوئی جب میرزا جعفر کی شادی
- اس کتاب طرب نصاب نے جب
- جب کہ سید غلام بابا نے
- منطبع جب کہ ہو چکے گی کتاب
- جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارے
- ادھر نہ ہوگی توجہ حضور کی جب تک
- جب کہ چودہ منازل فلکی
- غم سے جب ہو گئی ہو زیست حرام
- جب ازل میں رقم پذیر ہوئے
- جب یاد آگئی ہے کلیجا لیا ہے تھام
- استادہ ہو گئے لب دریا پہ جب خیام
- تھی نظر بندی کیا جب رد سحر
- اس کے سرہنگوں کا جب دفتر کھلا
- توسن شہ میں ہے وہ خوبی کہ جب
- نہ چلا جب کسی طرح مقدور
- جب خزاں آئے تب ہو اس کی بہار
- جب تلک ہے نمود سایہ و نور
- بتو توبہ کرو تم کیا ہو جب اعتبار آتا ہے
- مزہ تو جب ہے کہ اے آہ نارسا ہم سے
- تھکا جب قطرۂ بے دست و پا بالا دویدن سے
- اسپ جب ہندی میں گھوڑا نام پائے
- سبز ہو جب تک اسے کہیے گیاہ
- کھنچ کے قاتل جب تری شمشیر آدھی رہ گئی
- غم نے جب گھیرا تو چاہا ہم نے یوں اے دلنواز