جاے
14 Misre
- ہے غنیمت کہ بامید گزر جاے گی عمر
- جاے کہ اسدؔ رنگ چمن باختنی ہے
- خود فروشی ہاے ہستی بس کہ جاے خندہ ہے
- دعوی جمعیت احباب جاے خندہ ہے
- جاے استہزا ہے عشرت کوشی ہستی اسدؔ
- گر نہ باندھے قلزم الفت میں سر جاے کدو
- ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جاے
- ماہ کو در تسبیح کواکب جاے نشین امام کیا
- قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے
- کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل
- رنگ کھلتا جاے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
- مگر غبار ہوے پر ہوا اڑا لے جاے
- دل میں آ جاے ہے ہوتی ہے جو فرصت غش سے
- جاے حیرت ہے کہ گلبازی اندیشۂ شوق