جاں
60 Misre
- آنکھوں میں انتظار سے جاں پر شتاب ہے
- اسدؔ جاں نذر الطافے کہ ہنگام ہم آغوشی
- ہے رشتۂ جاں فرط کشش سے
- صد رگ جاں جادہ آسا وقف نشتر زار ہے
- بہ حسرت گاہ ناز کشتۂ جاں بخشی خوباں
- بطرز گل رگ جاں مجھ کو تار داماں ہے
- ناحق کی حجتیں نہ مری جاں نکالیے
- گرمی ہے زباں کی سبب سوختن جاں
- رنگریز جسم و جاں نے از خمستان عدم
- سر شک آگیں مژہ سے دست از جاں شستہ ابرو تھا
- بہر جاں پروردن یعقوب بال چاک سے
- جاں دادۂ ہواے سر رہ گزار تھا
- جنوں افسردہ و جاں ناتواں اے جلوہ شوخی کر
- جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہن
- گرمی ہے زباں کی سبب سوختن جاں
- جاں دادۂ ہوائے سر رہ گزار تھا
- صد رگ جاں جادہ آسا وقف نشتر زار ہے
- جاں کالبد صورت دیوار میں آوے
- ہمہ عرض نا شکیبی ہمہ ساز جاں ستانی
- کروں خوان گفتگو پر دل و جاں کی میہمانی
- دشنۂ غمزہ جاں ستاں ناوک ناز بے پناہ
- ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں
- یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
- جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
- سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں
- جاں داد گاں کا حوصلہ فرصت گداز ہے
- جاں سپاری شجر بید نہیں
- جاں در ہواۓ یک نگۂ گرم ہے اسدؔ
- رنگریز جسم و جاں نے از خمستان عدم
- طعمہ ہوں ایک ہی نفس جاں گداز کا
- عرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوئے
- جاں نذر دل فریبی عنواں کیے ہوئے
- جاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں
- نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
- بلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے
- روز بازار جاں سپاری ہے
- جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع
- کہیں حقیقت جاں کاہیٔ مرض لکھیے
- وہ نیش ہو رگ جاں میں فرو تو کیونکر ہو
- تکلف بر طرف ہے جاں ستاں تر لطف بد خویاں
- ہر چند جاں گدازی قہر و عتاب ہے
- جاں مطرب ترانۂ ہل من مزید ہے
- جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھی
- غالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں
- بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
- لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
- غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
- ہو گا دل بیتاب کسی سوختہ جاں کا
- دھوپ کھاوے کہاں تلک جاں دار
- وہی رونا تن و دل و جاں کا
- جس سے ہے چشم جاں کو بینائی
- سو اناج کے جو ہے مقلوب جاں
- ہمہ عرض نا شکیبی ہمہ ساز جاں ستانی
- کروں خوان گفتگو پر دل و جاں کی میہمانی
- جاں پناہا دل و جاں فیض رسانا شاہا
- تیری مدحت کے لیے ہیں دل و جاں کام و زباں
- جاں نثاروں میں تیرے قیصر روم
- مسیح جس سے کرے اخذ فیض جاں بخشی
- اعضا شکنی ہو چکی اب جاں شکنی ہے
- میں بھولا نہیں تجھ کو اے میری جاں