جانے
35 Misre
- اگر گل حسن و الفت کی بہم جوشیدنی جانے
- پر بلبل کے افسردن کو دامن چیدنی جانے
- بہار اس کی کف مشاطہ میں بالیدنی جانے
- بہ یک مژگان خوباں صد چمن خوابیدنی جانے
- مژہ پیچک میں مہ کی سوزن آسا چیدنی جانے
- نگہ شمشیر میں جوں جوہر آرامیدنی جانے
- نفس در قالب خشت لحد دزدیدنی جانے
- تماشا ہے کہ رنگ رفتہ بر گر دیدنی جانے
- زبان ہر سر مو حال دل پر سیدنی جانے
- عروج نا امیدی چشم زخم چرخ کیا جانے
- خبر نگہ کو نگہ چشم کو عدو جانے
- وہ جلوہ کر کہ نہ میں جانوں اور نہ تو جانے
- زیادہ اس سے گرفتار ہوں کہ تو جانے
- مباد حوصلہ معذور جستجو جانے
- گداز حوصلہ کو پاس آبرو جانے
- لہو میں ہاتھ کے بھرنے کو جو وضو جانے
- مگر وہ خانہ بر انداز گفتگو جانے
- کہ جو اسدؔ تپش نبض آرزو جانے
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگا ں سے جانے میں
- محبت طرز پیوند نہال دوستی جانے
- تو وہ بدخو کہ تحیر کو تماشا جانے
- نشۂ مے کے اتر جانے کے غم سے انگور
- سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
- ورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں
- ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
- ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میں
- محبت طرز پیوند نہال دوستی جانے
- تو وہ بد خو کہ تحیر کو تماشا جانے
- جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
- بس اب بگڑے پہ کیا شرمندگی جانے دو ہل جاؤ
- ان سیم کے بیجوں کو کوئی کیا جانے
- زخم دل تم نے دکھایا ہے کہ جی جانے ہے
- ایسے ہنستے کو رلایا ہے کہ جی جانے ہے
- واں کے جانے میں مری توقیر آدھی رہ گئی