جانتا
17 Misre
- جانتا ہوں ہے خط لوح ازل
- اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں
- کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں
- یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں
- میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
- جانتا ہے محو پرسش ہاۓ پنہانی مجھے
- اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
- میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
- جانتا ہے کہ ہمیں طاقت فریاد نہیں
- جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
- یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ مکتوب
- غالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں
- جانتا ہوں کہ آئے خاک کو عار
- جانتا ہوں کہ آج دنیا میں
- جانتا ہوں کہ جانتا ہے تو
- جانتا ہوں کہ اس کے فیض سے تو
- تو نہیں جانتا تو مجھ سے سن