جان
52 Misre
- غافلاں غش جان کر چھڑکے ہیں آب آئینے پر
- اے جان بر لب آمدہ بے تاب ہو گئی
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- ہزار آفت و یک جان بے نواے اسدؔ
- اے دل و جان خلق تو ہم کو آشنا سمجھ
- اے دل و اے جان ناز اے دین و اے ایمان عجز
- جان جائے تو بلا سے پہ کہیں دل آئے
- اٹھاوے کب وہ جان شرم تہمت قتل عاشق کی
- جان عاشق حامل صد غلبۂ تاثیر ہے
- ہوں سخت جان کاوش فکر سخن اسدؔ
- ہوا ہے موجب آرام جان و تن تکیہ
- خار کو بے نیام جان ہم کو برہنہ پا سمجھ
- آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
- مبارک باد اسدؔ غم خوار جان دردمند آیا
- جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
- جان تم پر نثار کرتا ہوں
- دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کن کے پاؤں
- زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ
- کوئی نہیں تیرا تو مری جان خدا ہے
- ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امیدؔ بھی ہو
- دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ
- نہ مارا جان کر بے جرم غافل تیری گردن پر
- رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجے
- پرتو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے
- کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز
- واقعہ سخت ہے اور جان عزیز
- مشکیں لباس کعبہ علی کے قدم سے جان
- ہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے
- ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
- جان وفا پرست کو ایک شمیم نو بہار
- مظہر فیض خدا جان و دل ختم رسل
- خاکیوں کو جو خدا نے دیے جان و دل و دیں
- یقین جان برس گانٹھ کا جو تاگا ہے
- ایک میں کیا کہ سب نے جان لیا
- دل تھا کہ جو جان درد تمہید سہی
- جان شیریں میں یہ مٹھاس کہاں
- جان میں ہوتی گریہ شیرینی
- جان دینے میں اس کو یکتا جان
- پر وہ یوں سہل دے نہ سکتا جان
- منہ پہ گر جھری پڑے آزنگ جان
- فارسی چھینکے کی تو آونگ جان
- زیستن کو جان من جینا کہو
- جان لو بیدار بودن جاگنا
- اونگھنا پوچھو غنودن جان لو
- مانجھنا چاہو زدودن جان لو
- زوجہ جورو یزنہ بہنوئی کو جان
- خشم غصے اور بد خوئی کو جان
- جان کو البتہ کہتے ہیں رواں
- غم سے جان عاشق دلگیر آدھی رہ گئی
- جان کی پاؤں اماں باتیں یہ سب سچ ہیں مگر