جام
51 Misre
- توڑ بیٹھے جب کہ ہم جام و سبو پھر ہم کو کیا
- کہ جام بادہ کف بر لب بتقریب تقاضا ہے
- بھرے پیمانۂ صد زندگانی ایک جام اس کا
- ہے رگ یاقوت عکس خط جام آفتاب
- زمیں جوش طرب سے جام لبریز سفالی ہے
- قسمت بخت رقیب گردش صد جام ہے
- نہاں ہر گرد باد دشت میں جام سفالی ہے
- ہوا آئینۂ جام بادہ عکس روے گلگوں سے
- گردش جام تمنا دور گردوں ہے مجھے
- موج مے مثل خط جام ہے برجاماندہ
- موج مے مثل خط جام ہے ہر جا ماندہ
- گئے وہ دن کہ پانی جام مے سے زانو زانو تھا
- یہ کاسۂ زانو بھی اک جام گدائی ہے
- عزیزاں ہے برنگ صفر جام آسماں خالی
- جام داغ شعلہ اندود چراغ کشتہ ہے
- روانی موج مے کی گر خط جام آشنا ہووے
- جام ہر ذرہ ہے سرشار تمنا مجھ سے
- واں اسدؔ تار شعاع مہر خط جام ہے
- تار نگاہ سوزن مینا رشتۂ خط جام کیا
- ضمان جادہ رویاندن ہے خط جام مے نوشاں
- لیے بیٹھا ہے اک دو چار جام واژ گوں وہ بھی
- وگرنہ مہر سلیمان و جام جم کیا ہے
- بھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے
- زمیں جوش طرب سے جام لبریز سفالی ہے
- ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
- جام داغ شعلہ اندود چراغ کشتہ ہے
- یار تیرا جام مے خمیازہ میرا آشنا
- جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
- برنگ لالہ جام بادہ بر محل پسند آیا
- ہوا جام زمرد بھی مجھے داغ پلنگ آخر
- جام مے خاتم جمشید نہیں
- ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے
- غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
- خط جام مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا
- کہ جام بادہ کف بر لب بہ تکلیف تقاضا ہے
- مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
- یہ کاسۂ زانو بھی اک جام گدائی ہے
- پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
- جو آئے جام بھر کے پیے اور ہو کے مست
- جام جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر
- اپنی صورت کا ایک بلوریں جام
- جرعہ خواروں میں تیرے مرشد جام
- واں آسمان شیشہ بنے آفتاب جام
- سبز ہے جام زمرد کی طرح داغ پلنگ
- جام جمشید ہے یاں قالب خشت دیوار
- نرگس و جام سیہ مستی چشم بیدار
- گل نرگس سے کف جام پہ ہے چشم بہار
- رنگریز گل و جام دوجہاں ناز و نیاز
- جام سرشار مے و غنچۂ لبریز بہار
- جام تیرے عیاں بادۂ جوش اسرار
- رکھ دیا ایک جام زر کھلا