جادہ
34 Misre
- جادہ ہے یار کی روش گفتگو اسدؔ
- صد رگ جاں جادہ آسا وقف نشتر زار ہے
- بازگشت جادہ پیماے رہ حیرت کہاں
- جادہ تا کہسار موے چینی افلاک ہے
- جوں جادہ سر بہ کوے تمناے بیدلی
- ہے شمع جادہ داغ نے فروختن ہنوز
- جادہ ہے واشدن پیچش طومار ہنوز
- پیچ تاب جادہ ہے خط کف افسوس و بس
- خوں چکاں ہے جادہ مانند رگ سودائیاں
- بہ رنگ جادہ سر کوے یار رکھتے ہیں
- پیچ تاب جادہ ہے یاں جوہر تیغ عسس
- جس دم کہ جادہ دار ہو تار نفس تمام
- بقدر یک نفس جادہ بصد رنج و تعب کاٹے
- جوں جادہ گر درہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- ہے شمع جادہ داغ ینفروختن ہنوز
- کہ تار جادہ سے ہے لجہ ریگ رواں خالی
- اے جادہ بسر رشتۂ یک ریشہ دویدن
- جادہ پر زیور صد آئنہ منزل باندھا
- ہے زمیں از بس کہ سنگیں جادہ بھی پیدا نہیں
- ہو چکے ہم جادہ ساں صد بار قطع اور پھر ہنوز
- ضمان جادہ رویاندن ہے خط جام مے نوشاں
- نقش پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
- صد رگ جاں جادہ آسا وقف نشتر زار ہے
- کہ تار جادہ بھی کہسار کو زنار مینا ہو
- جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا
- جوں جادہ سر بہ کوئے تمناۓ بے دلی
- ہے شمع جادہ داغ نیفروختن ہنوز
- جوں جادہ گرد رہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- جادہ غیر از نگہ دیدۂ تصویر نہیں
- جادہ ہے وا شدن پیچش طومار ہنوز
- خوں چکاں ہے جادہ مانند رگ سودائیاں
- جادہ ہے یار کی روش گفتگو اسدؔ
- یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
- کہ جادہ رشتہ ہے اور ہے شتر قطار گرہ