جاتی
9 Misre
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہ عشق کی
وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
حسرت لذت آزار رہی جاتی ہے
لیے جاتی ہے کہیں ایک توقع غالبؔ
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
بیداد وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخر
جاتی ہے ملاقات کب ایسے سببوں سے
خشک ہو جاتی ہے تب کہتے ہیں کاہ
ج
All Letters