جائے
80 Misre
- کبھی آ جائے گی کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔ
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- جراحت دوزی عاشق ہے جائے رحم ترساں ہوں
- مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- جان جائے تو بلا سے پہ کہیں دل آئے
- وقت حسن افروزی زینت طرازاں جائے گل
- تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
- کہیں ہو جائے جلد اے گردش گردون دوں وہ بھی
- موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
- کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
- قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے
- جراحت دوزیٔ عاشق ہے جائے رحم ڈرتا ہوں
- جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
- اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
- دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
- میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
- آبگینہ تندی صہبا سے پگھلا جائے ہے
- گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
- دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
- نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
- پر ہم ایسے کھوے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
- مثل نقش مدعائے غیر بیٹھا جائے ہے
- رنگ کھلتا جاے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
- کھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے
- پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
- غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں
- بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- راز معشوق نہ رسوا ہو جائے
- یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ
- جس دل میں کہ تابکے سما جائے
- مٹ جائے گا سر گر ترا پتھر نہ گھسے گا
- کیا تعجب ہے جو اس کو دیکھ کر آ جائے رحم
- سر کھجاتا ہے جہاں زخم سر اچھا ہو جائے
- دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے
- ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ
- دی ہے جائے دہن اس کو دم ایجاد نہیں
- اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
- کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے
- جہاں مٹ جائے سعیٔ دید خضر آباد آسائش
- جائے مے اپنے کو کھینچا چاہیے
- ہم سے رنج بیتابی کس طرح اٹھایا جائے
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- جفائیں کر کے اپنی یاد شرما جائے ہے مجھ سے
- کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے
- عبارت مختصر قاصد بھی گھبرا جائے ہے مجھ سے
- نہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولا جائے ہے مجھ سے
- کہ دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
- وہ دیکھا جائے کب یہ ظلم دیکھا جائے ہے مجھ سے
- نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے
- وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے
- مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
- گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
- بے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گا
- پرتو مہتاب سیل خانماں ہو جائے گا
- ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا
- یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا
- مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا
- شعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا
- ہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا
- اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
- دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا
- خار گل بہر دہان گل زباں ہو جائے گا
- بال شیشے کا رگ سنگ فساں ہو جائے گا
- سر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر
- بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
- بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن
- مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- گر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کو
- سبزے کو روندتا پھرے پھولوں کو جائے پھاند
- صبح دم باغ میں آ جائے جسے ہو نہ یقیں
- یہ بھی اک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائے
- صبح جو جائے اور آئے شام
- یاں زمیں پر نظر جہاں تک جائے
- اب تو مل جائے گی تیری ان سے سانٹھ
- ہوس نہ رہ جائے کوئی باقی گناہ کیجے تو خوب کیجے
- کہ روئے غنچۂ گل سوئے آشیاں پھر جائے
- تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر