جاؤں
9 Misre
- میں اور جاؤں در سے ترے بن صدا کیے
- مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازک
- ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں
- درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں
- آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤں
- زلف گر بن جاؤں تو شانے میں الجھا دے مجھے
- جو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیرباد نہیں
- مے ہی پھر کیوں نہ میں پیے جاؤں
- باز خواہم رفت میں پھر جاؤں گا