جا
66 Misre
- شمع ہوں تو بزم میں جا پاؤں غالبؔ کی طرح
- ازاں جا کہ حسرت کش یار ہیں ہم
- بہ بزم مے پرستی حسرت تکلیف بے جا ہے
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- داغ مہر ضبط بے جا مستی سعی سپند
- گر نہیں پاتا درون خانہ ہر بے گانہ جا
- اے مدعی خجالت بے جا نہ کھینچیے
- میں آپ سے جا چکا ہوں اب بھی
- عمر بھر ہوش نہ یک جا ہوے میرے کہ اسدؔ
- رکھی بے جا بناے خانۂ زنجیر شیون پر
- مصراع نالۂ نے سکتہ ہزار جا ہے
- ہوں جوں خط شکستہ بہر جا شکستہ دل
- ہوئی ہیں آب شرم کوشش بے جا سے تدبیریں
- جس جا کہ پاے سیل بلا درمیاں نہیں
- دہن شیر میں جا بیٹھیے لیکن اے دل
- موج مے مثل خط جام ہے ہر جا ماندہ
- یک نشو و نما جا نہیں جولان ہوس کو
- ہے ذرہ ذرہ تنگی جا سے غبار شوق
- نہ چھوڑو محفل عشرت میں جا اے میکشاں خالی
- اے اسدؔ بے جا ہے ناز سجدۂ عرض نیاز
- تھا کس قدر شکستہ کہ ہے جا بجا گرو
- بال پری بہ وحشت بے جا نہ کھینچیے
- کہ ہے دل سوزاں نے مرے پہلو میں جا گرم
- تمثال شوق بے باک صد جا دوچار صحرا
- دل میں ایسے کے جا کرے کوئی
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- کھل گئی مانند گل سو جا سے دیوار چمن
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
- اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
- ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
- جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے
- ہے ذرہ ذرہ تنگئ جا سے غبار شوق
- در خور عرض نہیں جوہر بیداد کو جا
- صبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے
- شرم رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میں
- یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک
- اسدؔ ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے
- تغیر آب بر جا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر
- جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
- لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
- دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل
- کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- کی اس نے گرم سینۂ اہل ہوس میں جا
- باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
- گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
- مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا
- جس جا کہ پائے سیل بلا درمیاں نہیں
- نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
- تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
- لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
- آدمی واں نہ جا سکے یاں کا
- ابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں
- جلوہ پرواز ہو نقش قدم اس کا جس جا
- کعبے میں جا بجائیں گے ناقوس
- مجلسیں جا بجا ہوئیں رنگیں
- بھول جا یک قدح بادہ بہ طاق گلزار
- پشت لب تہمت خط کھینچے ہے بے جا یعنی
- بیم سے جس کے صبا توڑے ہے صد جا زنار
- سبق نازکی ہے عجز کو صد جا تکرار
- غوطے میں جا کر دیا کٹ کر جواب
- می برد ہر جا کہ خاطر خواہ اوست
- لال ڈگی پر کرے گا جا کے کیا
- سب سے یہ گوشہ کنارے ہے گلے لگ جا مرے
- آدمی کو کیوں پکارے ہے گلے لگ جا مرے
- سر سے گر چادر اتارے ہے گلے لگ جا مرے
- مانگ کیا بیٹھا سنوارے ہے گلے لگ جا مرے