تیغ
67 Misre
- مژگاں کہوں کہ جوہر تیغ قضا کہوں
- نگاہ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
- جوہر تیغ بسر چشمۂ دیگر معلوم
- کہ تیغ یار ہلال مہ محرم ہے
- کیوں نہ تیغ یار کو مشاطہ الفت کہوں
- ہے سر مصراع صاف تیغ خنجر مستزاد
- ہاتھ آیا زخم تیغ یار سا پہلو نشیں
- تیغ در کف کف بلب آتا ہے قاتل اس طرف
- میرے لیے تو تیغ سیہ تاب ہو گئی
- بخیہ جوں جوہر تیغ آفت گیرائی ہے
- حنا سے دست و خون کشتگاں سے تیغ رنگیں ہے
- ہے رگ سنگ فسان تیغ شعاہ خار و خس
- پیچ تاب جادہ ہے یاں جوہر تیغ عسس
- ہیں خار راہ جوہر تیغ عسس تمام
- فسان تیغ نازک قاتلاں سنگ جراحت ہے
- دم تیغ توکل سے اگر پاے سبب کاٹے
- تیغ ستم کو پشت خم التجا کروں
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آبدار تھا
- ناخن تیغ بتاں شاید کہ مضرابی کرے
- اے خوشا گر آب تیغ ناز تیزابی کرے
- چرایا زخم ہاے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- کہ سجدہ قبضۂ تیغ خم محراب ہوجاوے
- کہکشاں موج شفق میں تیغ خوں آشام ہے
- ناخن بریدہ ہے تیغ صفاہانی مجھے
- بسمل اس تیغ دو دستی کا نہیں بچتا اسدؔ
- جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر
- جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر
- بخیہ جوں جوہر تیغ آفت گیرائی ہے
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آب دار تھا
- جوہر تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلوم
- نہ اتنا برش تیغ جفا پر ناز فرماؤ
- کہ زبان سرمہ آلود نہیں تیغ اصفہانی
- تیغ ادا نہیں ہے پابند بے نیامی
- نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آب تیغ نگاہ
- ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہا
- آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں
- بن گیا ہیں تیغ نگاہ یار کا سنگ فساں
- ہزار تیغ بہ زہر آب دادہ رکھتے ہیں
- چرایا زخم ہائے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- تیغ ستم آئینۂ تصویر نما ہے
- مژگاں کہوں کہ جوہر تیغ قضا کہوں
- تیغ ستم کو پشت خم التجا کروں
- جز زخم تیغ ناز نہیں دل میں آرزو
- نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا
- کہ تیغ یار ہلال مہ محرم ہے
- ہوئے ہیں بخیہ ہائے زخم جوہر تیغ دشمن میں
- نالۂ مرغ سحر تیغ دو دم ہے ہم کو
- تری طرح کوئی تیغ نگہ کو آب تو دے
- چاہیے درمان ریش دل بھی تیغ یار سے
- زخم تیغ قاتل کو طرفہ دل کشا پایا
- وہ زخم تیغ ہے جس کو کہ دل کشا کہیے
- نگاہ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
- وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
- ہے زباں میری تیغ جوہر دار
- وضع میں گو ہوئی دو سر تیغ ہے ذوالفقار ایک
- کہ زبان سرمہ آلود نہیں تیغ اصفہانی
- برش تیغ کا اس کی ہے جہاں میں چرچا
- تیغ کو تیری تیغ خصم نیام
- کاتب کی آستیں ہے مگر تیغ کا نیام
- ریزۂ شیشۂ مے جوہر تیغ کہسار
- سینہ بے تابی سے ملتا ہے بہ تیغ کہسار
- پر قمری سے کرے صیقل تیغ کہسار
- سایۂ تیغ کو دیکھ اس کے بہ ذوق یک زخم
- نعل در آتش ہر ذرہ ہے تیغ کہسار
- ستم ہے کشتۂ تیغ جفا کہیں اس کو
- کہ لوگ جوہر تیغ قضا کہیں اس کو
- تیغ کی ہندی اگر تلوار ہے