تیرے
59 Misre
- نور سے تیرے ہے اس کی روشنی
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- حیرت حسن چمن پیرا سے تیرے رنگ گل
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- آ اے بہار ناز کہ تیرے خرام سے
- پیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا
- عکس تیرا ہی مگر تیرے مقابل آئے
- تیرے کوچے کا ہے مائل دل مضطر میرا
- یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
- عرش پر تیرے قدم سے ہے دماغ گرد رہ
- ہوئی یہ بیخودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
- یاد کر وہ دن کہ ہر اک حلقہ تیرے دام کا
- بس کہ تیرے جلوۂ دیدار کا ہے اشتیاق
- پیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا
- نظر میں کھٹکے ہے بن تیرے گھر کی آبادی
- تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
- تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
- تیرے بیمار پہ ہیں فریادی
- ہنوز تیرے تصور میں ہے نشیب و فراز
- تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ
- کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
- تیرا ہی عکس رخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں
- مانا کہ تیرے رخ سے نگہ کامیاب ہے
- کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
- فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
- نہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو
- ہوئی یہ بے خودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
- آ اے بہار ناز کہ تیرے خرام سے
- پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- جلوے كا تیرے وہ عالم ہے کہ گر کیجے خیال
- چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل
- ہم سے تیرے کوچے نے نقش مدعا پایا
- ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے
- بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
- کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
- ایجاد کرتی ہے اسے تیرے لیے بہار
- سطوت سے تیرے جلوۂ حسن غیور کی
- تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
- پانو س تیرے ملے فرق ارادت اورنگ
- فرق سے تیرے کرے کسب سعادت اکلیل
- ہاتھ میں تیرے رہے تو سن دولت کی عناں
- ذوق گلچینی نقش کف پا سے تیرے
- تیرے در کے کیے اسباب نثار آمادہ
- کہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں
- تیرے پرتو سے ہوں فروغ پذیر
- جاں نثاروں میں تیرے قیصر روم
- جرعہ خواروں میں تیرے مرشد جام
- تیر کو تیرے تیر غیر ہدف
- تیرے فیل گراں جسد کی صدا
- تیرے رخش سبک عناں کا خرام
- فیض سے تیرے ہے اے شمع شبستان بہار
- ذوق میں جلوے کے تیرے بہ ہواے دیدار
- کھینچے خمیازے میں تیرے لب ساغر کا خمار
- ذوق بے تابی دیدار سے تیرے ہے ہنوز
- جام تیرے عیاں بادۂ جوش اسرار
- بس کہ تیرے حق میں کہتی ہے زباں