تیری
39 Misre
- نفس تیری گلی میں خوں ہو اور بازار رنگیں ہے
- دل دے تو ہم بتا دیں مٹھی میں تیری کیا ہے
- بیاباں خوش ہوں تیری عاملی سے
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر
- گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
- تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
- جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر
- تیری آرائش کا استقبال کرتی ہے بہار
- تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
- اللہ رے تیری تندی خو جس کے بیم سے
- تیری فرصت کے مقابل اے عمر
- فرصت کہاں کہ تیری تمنا کرے کوئی
- خاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے
- تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
- قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوق
- نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر
- بلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے
- نہ مارا جان کر بے جرم غافل تیری گردن پر
- عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
- سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
- تیری رفتار قلم جنبش بال جبریل
- تیری دانش مری اصلاح مفاسد کی رہین
- تیری بخشش مرے انجاح مقاصد کی کفیل
- تیری مدحت کے لیے ہیں دل و جاں کام و زباں
- تیری تسلیم کو ہیں لوح و قلم دست و جبیں
- ہے فخر سلیماں جو کرے تیری وزارت
- کر چکے قطع تیری تیزئ گام
- تیغ کو تیری تیغ خصم نیام
- تیری توقیع سلطنت کو بھی
- گرد جولاں سے ہے تیری بگریبان خرام
- تیری اولاد کے غم سے ہے بروے گردوں
- مدح میں تیری نہاں زمزمۂ نعت نبی
- اب تو مل جائے گی تیری ان سے سانٹھ
- وہ خود کہے کہ بتا تیری آرزو کیا ہے
- دیکھتے ہی اے ستمگر تیری چشم نیم باز
- نامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی بات