تیرہ
6 Misre
بس کہ وقت گریہ نکلا تیرہ کاری کا غبار
نہیں ہے آہ کو ایماے تیرہ بالیدن
نصیب تیرہ بلا گردش آفریں ہے اسدؔ
ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشق تیرہ روزی تھی
نشان روشنی دل نہاں ہے تیرہ بختوں کا
اس بزم پر فروغ میں اس تیرہ بخت کو
ت
All Letters