تیر
28 Misre
- ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
- کہ در بحر کماں بالیدہ موج تیر ہے پیدا
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- تیر بھی سینۂ بسمل سے پر افشاں نکلا
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- نغمہ و چنگ ہیں جوں تیر و کماں فہمیدن
- شب کہ دل زخمی عرض دو جہاں تیر آیا
- کہ کلہ گوشہ بہ پرواز پر تیر آیا
- یاں پر پرواز رنگ رفتہ بال تیر ہے
- چال جیسے کڑی کمان کا تیر
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- رہے دل ہی میں تیر اچھا جگر کے پار ہو بہتر
- تیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
- نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں
- تیرا ترکش ہی کچھ آبستنیٔ تیر نہیں
- ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیں
- ہے ترے تیر کا پیکان عزیز
- ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
- آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
- ہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور
- کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
- اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہاے ہاے
- تیر کو تیرے تیر غیر ہدف
- ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلے