تھے
49 Misre
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- فقط اک شعر میں انداز رسا رکھتے تھے
- آپ لکھتے تھے ہم اور آپ اٹھا رکھتے تھے
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
- ہم غلط سمجھے تھے لیکن زخم دل پر رحم کر
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
- دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
- اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
- نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھے
- وہ آیا بزم میں دیکھو نہ کہیو پھر کہ غافل تھے
- وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
- دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
- بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے ی
- ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
- تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے
- کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- فقط اک شعر میں انداز رسا رکھتے تھے
- آپ لکھتے تھے ہم اور آپ اٹھا رکھتے تھے
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
- وگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذت الم آگے
- ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
- ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
- اٹھے تھے سیر گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی
- ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
- تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کے
- تم کون سے تھے ایسے کھرے داد و ستد کے
- دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا
- وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
- قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
- ہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن
- آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
- ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہی
- عشق سے آتے تھے مانع میرزاؔ صاحب مجھے
- کیا کرتے تھے تم تقریر ہم خاموش رہتے تھے
- قسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے
- تھے ظہوری و عرفی و طالب
- کل وہ سرگرم خودنمائی تھے
- شمع بزم سخن سرائی تھے
- لاکھ عقدے دل میں تھے لیکن ہر ایک
- دودھ میں پکے تھے شلغم تناہا یاہو
- ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر