تھی
65 Misre
- بیرون دل نہ تھی تپش انجمن ہنوز
- اسدؔ کو زیست تھی مشکل اگر نہ سن لیتا
- آخر اس پردے میں تو ہنستی تھی اے صبح وصال
- جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
- ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشق تیرہ روزی تھی
- مجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھی
- بوے یوسف مجھے گلزار سے آتی تھی اسدؔ
- صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
- مرگ شیریں ہو گئی تھی کوہکن کی فکر میں
- تھی میرے ہی جلانے کو اے آہ شعلہ ریز
- شب کہ تھی کیفیّت محفل بیاد روے یار
- شاخ گل جلتی تھی مثل شمع گل پروانہ تھا
- تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا
- جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
- تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدر
- صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
- تھی میرے ہی جلانے کو اے آہ شعلہ ریز
- جاری تھی اسدؔ داغ جگر سے مری تحصیل
- تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- تھی نگہ میری نہاں خانۂ دل کی نقاب
- اسد کو حسرت عرض نیاز تھی دم قتل
- تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
- تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
- دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے
- یعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہائے ہائے
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ
- میری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
- کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
- جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
- بوئے یوسف مجھے گلزار سے آتی تھی اسدؔ
- تھی نوآموز فنا ہمت دشوار پسند
- ہماری سادگی تھی التفات ناز پر مرنا
- مری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کی ناز اٹھانے کی
- بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
- کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی
- بیرون دل نہ تھی تپش انجمن ہنوز
- شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
- کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستاں پر
- منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
- گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
- مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
- محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
- رہ خوابیدہ تھی گردن کش یک درس آگاہی
- تھی وہ اک شخص کے تصور سے
- ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
- آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
- گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
- بسکہ تھی فصل خزان چمنستان سخن
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
- یہ بھی اک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائے
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- تھی جنوری مہینے کی تاریخ تیرہویں
- پر یہ دولت تھی نصیب نگہ معنی ناز
- رشک نظارہ تھی یک برق تجلی کہ ہنوز
- وہ بھی تھی اک سیمیا کی سی نمود
- تھی نظر بندی کیا جب رد سحر
- یاران نبی میں تھی لڑائی کس میں
- الفت کی نہ تھی جلوہ نمائی کس میں
- بتلاؤ کوئی کہ تھی برائی کس میں
- دیکھتا ہوں اسے تھی جس کی تمنا مجھ کو
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ
- میری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
- کی تھی پوری ہم نے جو تدبیر آدھی رہ گئی
- نامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی بات