تھا
393 Misre
- از بس کہ صرف قطرہ زنی تھا بسان اشک
- عالم جہاں بعرض بساط وجود تھا
- جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
- ہنگامہ گرم حیرت بود و نمود تھا
- یا میں غریب کشور گفت و شنود تھا
- صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
- ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
- سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا
- دہان تنگ مجھے کس کا یاد آیا تھا
- ورنہ تھا خرشید یک دست سوال
- شب کہ تھا نظارگی روے بتاں کا اے اسدؔ
- مجھ سے مت کہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- بس کہ جوش گریہ سے زیر و زبر ویرانہ تھا
- چاک موج سیل تا پیراہن دیوانہ تھا
- دود مجمر لالہ ساں درد تہ پیمانہ تھا
- رنگ شب تہ بندی دود چراغ خانہ تھا
- تار شمع آہنگ مضراب پر پروانہ تھا
- عقد وصل دخت رز انگور کا ہر دانہ تھا
- صورت مژگان عاشق صرف عرض شانہ تھا
- راہ خوابیدہ کو غوغائے جرس افسانہ تھا
- خنجر زہراب دادہ سبزۂ بیگانہ تھا
- ورنہ بسمل کا تڑپنا لغزش مستانہ تھا
- میں دور گرد قرب بساط نگاہ تھا
- تھا مجھ کو خار خار جنون وفا اسدؔ
- سوزن میں تھا نہفتہ گل پیرہن ہنوز
- کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یارب
- خیال دود تھا سر جوش سوداے غلط فہمی
- آبلہ پیمانۂ اندازۂ تشویش تھا
- کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
- آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
- مگر روز عروسی گم ہوا تھا شانہ لیلیٰ کا
- تھا خواب میں کیا جلوہ پرستار زلیخا
- شب کہ مست دیدن مہتاب تھا وہ جامہ زیب
- شب کہ وہ گل باغ میں تھا جلوہ فرما اے اسدؔ
- خود آرا وحشت چشم پری سے شب وہ بدخو تھا
- کہ موم آئینہ تمثال کو تعویذ بازو تھا
- خود آرائی سے آئینہ طلسم موم جادو تھا
- ہمیشہ دیدۂ گریاں کو آب رفتہ در جو تھا
- سر شک آگیں مژہ سے دست از جاں شستہ ابرو تھا
- خم رنگ سیہ پیمانۂ ہر چشم آہو تھا
- اشارت فہم کو ہر ناخن بریدہ ابرو تھا
- گئے وہ دن کہ پانی جام مے سے زانو زانو تھا
- میں بے ہنر کہ جوہر آئینہ تھا عبث
- بستن عہد محبت ہمہ نادانی تھا
- کس کا خیال آئنۂ انتظار تھا
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- کس کا جنون دید تمنا شکار تھا
- آئینہ خانہ وادی جوہر غبار تھا
- پیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا
- خون جگر ودیعت مژگان یار تھا
- توڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا
- دیکھا تو کم ہوے پہ غم روزگار تھا
- خمیازہ یک درازی عمر خمار تھا
- جاں دادۂ ہواے سر رہ گزار تھا
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آبدار تھا
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- کہ تھا آئینہ خور پر تصور زنگ بستن کا
- واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ
- تھا حریر سنگ سے قطع کفن کی فکر میں
- زبس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- سراسر تاختن کوشش جہت یک عرصہ جولاں تھا
- نہ بندھا تھا بہ عدم نقش دل مور ہنوز
- طلسم رنگ میں باندھا تھا عہد استوار اپنا
- نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
- تھا سپند بزم وصل غیر گو بے تاب تھا
- آسمان سفلہ جس میں یک کف سیلاب تھا
- گریہ وحشت بے قرار جلوۂ مہتاب تھا
- فتنۂ خوابیدہ کو آئینہ مشت آب تھا
- قلزم ذوق نظر میں آئنہ پایاب تھا
- یاد ایامے کہ ذوق صحبت احباب تھا
- خانۂ عاشق مگر ساز صداے آب تھا
- پہلوے اندیشہ وقف بستر سنجاب تھا
- ذرہ ذرہ روکش خورشید عالم تاب تھا
- کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا
- انتظار صید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- اس کی سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- تھا محمل نگاہ بدوش شرار حیف
- کہ تھا آئینۂ خود بے نقاب زنگ بستن ہا
- رات دل گرم خیال جلوۂ جانانہ تھا
- رنگ روے شمع برق خرمن پروانہ تھا
- ہر نظر میں داغ مے خال لب پیمانہ تھا
- وہ فسون وعدہ میرے واسطے افسانہ تھا
- وہ دل سوزاں کہ کل تک شمع ماتم خانہ تھا
- تو کہے صحرا غبار دامن دیوانہ تھا
- شاخ گل جلتی تھی مثل شمع گل پروانہ تھا
- غالبؔ ایسے گنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
- آئینہ خانہ ز سیل اشک ہر ویرانہ تھا
- تھا کس قدر شکستہ کہ ہے جا بجا گرو
- پرواز نقد دام تمناے جلوہ تھا
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگا ں سے جانے میں
- اگرچہ تھا یہ ارادہ مگر خدا کا شکر
- کہ ضرب تیشہ پہ رکھتا تھا کوہکن تکیہ
- روا رکھو نہ رکھو تھا جو لفظ تکیہ کلام
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- شوخی وحشت سے افسانہ فسون خواب تھا
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- شعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرداب تھا
- واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
- گریے سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا
- شوخی بارش سے مہ فوارۂ سیماب تھا
- واں ہجوم نغمہ ہاے ساز عشرت تھا اسدؔ
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
- یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آبجو
- یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- جلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا
- فرش سے تا عرش واں طوفان تھا موج رنگ کا
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
- گرمیٔ برق تپش سے زہرٔ دل آب تھا
- شعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرد اب تھا
- نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
- تھا سپند بزم وصل غیر گو بیتاب تھا
- آسمان سفلہ جس میں یک کف سیلاب تھا
- گریہ وحشت بیقرار جلوۂ مہتاب تھا
- فتنۂ خوابیدہ کو آئینہ مشت آب تھا
- قلزم ذوق نظر میں آئینہ پایاب تھا
- یاد ایام کہ ذوق صحبت احباب تھا
- خانۂ عاشق مگر ساز صدائے آب تھا
- پہلوئے اندیشہ وقف بستر سنجاب تھا
- ذرہ ذرہ روکش خورشید عالم تاب تھا
- کل تلک تیرا بھی دل مہرو وفا کا باب تھا
- انتظار عید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- اس کے سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- ایک دل تھا کہ بصد رنگ دکھایا ہے مجھے
- تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا
- میرا سفر بہ طالع چشم حسود تھا
- حیرت متاع عالم نقصان و سود تھا
- میں پائمال غمزۂ چشم کبود تھا
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- کس کو دماغ منت گفت و شنود تھا
- لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
- میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا
- سر تا قدم گزارش ذوق سجود تھا
- عکس رخ افروختہ تھا تصویر بہ پشت آئینہ
- تھا یہ کم وزن کہ ہم سنگ کف خاک چڑھا
- بال کس گرمی سے سکھلاتا تھا سنبل کے تلے
- یاد روزے کہ نفس سلسلۂ یارب تھا
- نالۂ دل بہ کمر دامن قطع شب تھا
- دل شب آئینہ دار تپش کوکب تھا
- دیدہ گو خوں ہو تماشائے چمن مطلب تھا
- حسن آئینہ و آئینہ چمن مشرب تھا
- بخیۂ زخم جگر خندۂ زیر لب تھا
- دل ناسوختہ آتش کدۂ صد تب تھا
- ورنہ جو چاہیے اسباب تمنا سب تھا
- دل دیوانہ کہ دارستۂ ہر مذہب تھا
- ہم میں سرمایۂ ایجاد تمنا کب تھا
- یاد روزے کہ نفس در گرہ یارب تھا
- جو بشام غم چراغ خلوت دل تھا اسدؔ
- بھونچال میں گرا تھا یہ آئینہ طاق سے
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
- ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- جوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا
- پروانۂ تجلی شمع ظہور تھا
- طلسم رنگ میں باندھا تھا عہد استوار اپنا
- دود شمع کشتہ تھا شاید خط رخسار دوست
- کشتۂ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمار دوست
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
- ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- پروانۂ تجلی شمع ظہور تھا
- پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا
- جوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا
- خون جگر ودیعت مژگان یار تھا
- توڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا
- جاں دادۂ ہوائے سر رہ گزار تھا
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آب دار تھا
- دیکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا
- کس کا جنون دید تمنا شکار تھا
- آئینہ خانہ وادیٔ جوہر غبار تھا
- کس کا خیال آئنۂ انتظار تھا
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- پیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا
- خمیازہ یک درازی عمر خمار تھا
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- مجھ سے مت کہہ تُو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
- تکلف بر طرف تھا ایک انداز جنوں وہ بھی
- نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
- تھا محمل نگاہ بہ دوش شرار حیف
- پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے
- تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
- اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
- خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
- آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
- جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
- میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا
- یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا
- میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
- آتش کدہ جاگیر سمندر نہ ہوا تھا
- نوک ہر خار سے تھا بسکہ سر دزدیٔ زخم
- صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
- ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
- لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
- میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا
- سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا
- عالم جہاں بہ عرض بساط وجود تھا
- جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
- ہنگامہ گرم حیرت بود و نبود تھا
- یا میں غریب کشور گفت و شنود تھا
- تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا
- میرا سفر بہ طالع چشم حسود تھا
- حیرت متاع عالم نقصان و سود تھا
- میں پائمال غمزۂ چشم کبود تھا
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- کس کو دماغ منت گفت و شنود تھا
- سر تا قدم گزارش ذوق سجود تھا
- خیال آساں تھا لیکن خواب خسرو نے گرانی کی
- خم پشت خوشنما تھا بہ گزارش جوانی
- تھا میں گلدستۂ احباب کی بندش کی گیاہ
- تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ
- کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال
- عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ
- رہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہائے ہائے
- آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
- کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
- دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
- عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا
- تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
- اڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
- تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
- مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
- اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
- دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
- زنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا
- حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
- میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں
- ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
- لے گیا تھا گور میں ذوق تن آسانی مجھے
- بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
- کوہ کن نقاش یک تمثال شیریں تھا اسدؔ
- شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج
- زخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک
- ز بس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- سراسر تاختن کو شش جہت یک عرصہ جولاں تھا
- شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا
- تامحیط بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا
- جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا
- خانۂ مجنون صحراگرد بے دروازہ تھا
- دست مرہون حنا رخسار رہن غازہ تھا
- یادگار نالہ اک دیوان بے شیرازہ تھا
- داغ گرم کوشش ایجاد داغ تازہ تھا
- بوریا یک نیستاں عالم بلند آوازہ تھا
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- شعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرداب تھا
- واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
- گریہ سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا
- واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
- یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
- یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- جلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا
- فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- شوخیٔ وحشت سے افسانہ فسون خواب تھا
- شوخیٔ بارش سے مہ فوارۂ سیماب تھا
- واں ہجوم نغمہ ہائے ساز عشرت تھا اسدؔ
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا
- رشتۂ ہر شمع خار کسوت فانوس تھا
- کس قدر یارب ہلاک حسرت پا بوس تھا
- دل بہ دل پیوستہ گویا یک لب افسوس تھا
- جو کہ کھایا خون دل بے منت کیموس تھا
- ہر صریر خامہ میں یک نالۂ ناقوس تھا
- یہ دل وابستہ گویا بیضۂ طاؤس تھا
- دست برسر سر بہ زانوئے دل مایوس تھا
- دل حسرت زدہ تھا مائدۂ لذت درد
- آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
- کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
- جو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا
- خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
- نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب
- تڑپ کر مر گیا وہ صید بال افشاں کہ مضطر تھا
- قضا نے تھا مجھے چاہا خراب بادۂ الفت
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
- انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا
- ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
- میں دور گرد قرب بساط نگاہ تھا
- تھا مجھ کو خار خار جنون وفا اسدؔ
- سوزن میں تھا نہفتہ گل پیرہن ہنوز
- جہاں تلوار کو دیکھا جھکا دیتا تھا گردن کو
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میں
- لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
- ہاں اے فلک پیر جواں تھا ابھی عارف
- کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور
- کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستاں پر
- سینہ کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا
- مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
- میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
- گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
- وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
- جب رشتہ بے گرہ تھا ناخن گرہ کشا تھا
- گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی
- پر پروانہ شاید بادبان کشتی مے تھا
- اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا
- نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
- خیال دود تھا سر جوش سودائے غلط فہمی
- کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یا رب
- تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ
- دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
- نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا
- سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
- دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا
- چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل
- شب نظارہ پرور تھا خواب میں خیال اس کا
- ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
- وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
- دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا
- غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلی کا
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
- بستن عہد محبت ہمہ نادانی تھا
- پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
- ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
- آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
- اس میں کچھ شائبۂ خوبی تقدیر بھی تھا
- کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
- ہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا
- بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
- گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا
- نالہ کرتا تھا ولے طالب تاثیر بھی تھا
- ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
- آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
- آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا
- کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
- ہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے
- ہندوستان سایۂ گل پاۓ تخت تھا
- کہتا تھا کل وہ محرم راز اپنے سے کہ آہ
- جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیا
- تھا طلسم قفل ابجد خانۂ مکتب مجھے
- تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
- مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
- تھا میں اک بے نواے گوشہ نشیں
- تھا میں اک درد مند سینہ فگار
- تھا ہمیشہ سے یہ عریضہ گزار
- اور پھر ہندسہ تھا بارہ کا
- سہل تھا مسہل و لے یہ سخت مشکل آپڑی
- خم پشت خوشنما تھا بہ گزارش جوانی
- آصف کو سلیماں کی وزارت سے شرف تھا
- دکھا کے رشتہ کسی جوتشی سے پوچھا تھا
- آسماں نے بچھا رکھا تھا دام
- توسن طبع چاہتا تھا لگام
- زہر غم کر چکا تھا میرا
- دل کے لینے میں جن کو تھا ابرام
- چاہا تھا میں نے تم کو مہ چاردہ کہوں
- تھا ایک گونہ ناز جو اپنے کمال پر
- آیا تھا وقت ریل کے کھلنے کا بھی قریب
- تھا بارگاہ خاص میں خلقت کا ازدحام
- موکب خاص یوں زمیں پر تھا
- چھوڑ دیتا تھا گور کو بہرام
- ورنہ وہ ناز ہے جس گلشن بیداد سے تھا
- دو جہاں طالب دیدار تھا یارب کہ ہنوز
- تھا سر سلسلہ جنبانی صد عمر ابد
- شب کو تھا گنجینۂ گوہر کھلا
- سطح گردوں پر پڑا تھا رات کو
- تھا دل وابستہ قفل بے کلید
- تھا موجد عشق بھی قیامت کوئی
- سمجھا تھا نبی نے ان کو اپنا ہمدم
- دل تھا کہ جو جان درد تمہید سہی
- شب زلف و رخ عرق فشاں کا غم تھا
- کیا شرح کروں کہ طرفہ تر عالم تھا
- ہر قطرۂ اشک دیدۂ پرنم تھا
- یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ
- تھا ترنج زر ایک خسرو پاس
- تھا تو خط پر نہ تھا جواب طلب
- ورنہ تھا اپنا ارادہ پار کا
- کھینچتا تھا رات کو میں خواب میں تصویر یار
- تو صداے پا سے جاگا تھا جو محو خواب ناز