تکیہ
21 Misre
- ہیں وبال تکیہ گاہ ہمت مردانہ ہم
- از بس کہ ہے محو بہ چمن تکیہ زدن ہا
- شب وصال میں مونس گیا ہے بن تکیہ
- ہوا ہے موجب آرام جان و تن تکیہ
- کہ بن گیا ہے خم جعد پر شکن تکیہ
- ہوا ہے دستۂ نسرین و نسترن تکیہ
- جو رخت خواب ہے پرویں تو ہے پرن تکیہ
- رکھے جو بیچ میں وہ شوخ سیمتن تکیہ
- اٹھا سکا نہ نزاکت سے گلبدن تکیہ
- اگرچہ زانوے نل پر رکھے دمن تکیہ
- کہ ضرب تیشہ پہ رکھتا تھا کوہکن تکیہ
- رکھو نہ شمع پہ اے اہل انجمن تکیہ
- اٹھائے کیوں کے یہ رنجور خستہ تن تکیہ
- ہوئی ہے اس کو مری لاش بے کفن تکیہ
- لگا کے بیٹھتے ہیں اس سے راہ زن تکیہ
- کہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ
- روا رکھو نہ رکھو تھا جو لفظ تکیہ کلام
- اب اس کو کہتے ہیں اہل سخن سخن تکیہ
- فقیر غالبؔ مسکیں کا ہے کہن تکیہ
- ہیں وبال تکیہ گاۂ ہمت مردانہ ہم
- تکیہ بالش اور بچھونا بسترہ