تکرار
8 Misre
ہے ردیف شعر میں غالبؔ ز بس تکرار دوست
یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
دیر و حرم آئینۂ تکرار تمنا
اور رہتی ہے سود کی تکرار
سبق نازکی ہے عجز کو صد جا تکرار
جلوۂ طور نمک سودۂ زخم تکرار
تشنۂ خون دو عالم ہوں بہ عرض تکرار
تکرار روا نہیں تو تجدید سہی
ت
All Letters